خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 146 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 146

خطبات مسرور جلد 16 146 13 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مارچ2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرموده مورخہ 30 / مارچ 2018ء بمطابق 30 / امان 1397 ہجری می بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت جابر بن عبد اللہ تھے اور یہ حضرت عبد اللہ بن عمر و بن حرام کے بیٹے تھے۔عبد اللہ بن عمرو بن حرام وہی صحابی ہیں جن کے ذکر کے حوالے سے چند جمعہ پہلے میں نے بتایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شہادت کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے پوچھا تھا کہ تمہاری کیا خواہش ہے ؟ بتاؤ میں پوری کروں۔تو انہوں نے کہا کہ اے اللہ میری خواہش ہے کہ دوبارہ زندہ کر کے دنیا میں بھیجا جاؤں اور پھر تیری راہ میں شہید ہو جاؤں۔کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت کے خلاف ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو نہیں ہو سکتا کیونکہ مرنے والے دوبارہ دنیا میں نہیں لوٹائے جاتے۔(سنن الترمذی ابواب تفسير القرآن باب ومن سورة آل عمران حدیث 3010) اس کے علاوہ بتاؤ کیا بات ہے۔تو بہر حال اس سے ان کی قربانی کے معیار اور اللہ تعالیٰ کے ان سے غیر معمولی سلوک کا پتہ چلتا ہے۔حضرت جابر بن عبد اللہ اپنے عظیم المرتبت صحابی باپ کے بیٹے تھے اور بچپن میں ہی بیعت عقبہ ثانیہ کے دوران انہوں نے بیعت کی تھی۔(اسد الغابه جلد اوّل صفحہ 492 جابر بن عبد الله بن حرام مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1996ء) حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام کے واقعہ میں یہ بھی ذکر ہوا تھا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو کہا تھا کہ یہودی سے لیا ہوا میر اجو قرض ہے میری شہادت کے بعد اس کو باغ کے پھل کو فروخت کر کے ادا کر دینا۔(صحيح البخاري كتاب الجنائز باب هل يخرج الميت من القبر واللحد لعلة حديث 1351)(عمدة القارى شرح صحیح البخاری جلد 8 صفحہ 244 حدیث 1351 کتاب الجنائز باب هل يخرج الميت من القبر واللحد لعلة مطبوعة دار احياء التراث العربی بیروت 2003ء) روایت کے مطابق انہوں نے وہ قرض ادا کیا۔اس کے علاوہ بھی اس زمانے میں رواج تھا کہ باغوں اور فصلوں کے مقابل پر قرض لیا جاتا تھا۔حضرت جابر بھی اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے قرض لیتے تھے۔اس کا ایک تفصیلی واقعہ کا ذکر ملتا ہے کہ کس طرح آپ نے قرض کی واپسی کے وقت یہودی سے کہا کہ باغ کی آمد کم ہوئی