خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 144 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 144

144 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2018 خطبات مسرور جلد 16 انسان کے عمل پر ہمیشہ چور پڑا کرتے ہیں۔وہ " چور " کیا ہیں ؟ کس قسم کے چور پڑتے ہیں عمل پر ؟ ریا کاری۔(کہ جب انسان دکھاوے کے لئے ایک عمل کرتا ہے۔) عجب " یہ ہے " ( کہ وہ عمل کر کے اپنے نفس میں خوش ہوتا ہے ) " اس کو عجب کہتے ہیں " اور قسم قسم کی بدکاریاں اور گناہ جو اس سے صادر ہوتے ہیں ان سے اعمال باطل ہو جاتے ہیں۔" فرمایا کہ " عمل صالح وہ ہے جس میں ظلم، محجب، ریا، تکبر اور حقوق انسانی کے تلف کرنے کا خیال تک نہ ہو۔جیسے آخرت میں انسان عمل صالح سے بچتا ہے ویسے ہی دنیا میں بھی بچتا ہے۔یعنی آخرت میں بھی نیک اعمال جو ہیں انہی کی وجہ سے بچاؤ کا سامان ہو گا۔اچھے نیک عمل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور انعامات سے نوازے گا۔اسی طرح دنیا میں بھی اگر نیک عمل ہوں گے تو بہت سی دنیاوی پریشانیوں اور تکلیفوں سے انسان بچ جاتا ہے۔فرمایا کہ "اگر ایک آدمی بھی گھر بھر میں عمل صالح والا ہو تو سب گھر بچارہتا ہے۔سمجھ لو کہ جب تک تم میں عمل صالح نہ ہو صرف ماننا فائدہ نہیں کرتا۔ایک طبیب نسخہ لکھ کر دیتا ہے تو اس سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ جو کچھ اس میں لکھا ہے وہ لے کر اسے پیوے، " استعمال کرے۔" اگر وہ ان دواؤں کو استعمال نہ کرے اور نسخہ لے کر رکھ چھوڑے تو اسے کیا فائدہ ہو گا۔اب اس وقت تم نے تو بہ کی ہے۔اب آئندہ خدا تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ اس تو بہ سے اپنے آپ کو تم نے کتنا صاف کیا۔اب زمانہ ہے کہ خدا تعالیٰ تقویٰ کے ذریعہ سے فرق کرنا چاہتا ہے۔بہت لوگ ہیں کہ خدا پر شکوہ کرتے ہیں اور اپنے نفس کو نہیں دیکھتے۔انسان کے اپنے نفس کے ظلم ہی ہوتے ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔" فرمایا کہ " بعض آدمی ایسے ہیں کہ ان کو گناہ کی خبر ہوتی ہے اور بعض ایسے کہ ان کو گناہ کی خبر بھی نہیں ہوتی۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے استغفار کا التزام کرایا ہے۔" ہمیشہ استغفار کرتے رہنا چاہئے کہ انسان ہر ایک گناہ کے لئے خواہ وہ ظاہر کا ہو خواہ باطن کا، خواہ اسے علم ہو یانہ ہو اور ہاتھ اور پاؤں اور زبان اور ناک اور کان اور آنکھ اور سب قسم کے گناہوں سے استغفار کرتارہے۔یعنی کوئی بھی چیز ایسی نہ ہو، عمل ایسانہ ہو یا جسم کا اس طرح کوئی استعمال نہ ہو جس سے گناہ صادر ہوتا ہو۔اس لئے استغفار کرو تا کہ جسم کا ہر حصہ گناہوں سے بچارہے۔فرمایا " آجکل آدم علیہ السلام کی دعا پڑھنی چاہئے۔" اور وہ کیا دعا ہے کہ "رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِن الخيرِينَ (الاعراف:24)۔یہ دعا اؤل ہی قبول ہو چکی ہے۔غفلت سے زندگی بسر مت کرو۔جو شخص غفلت سے زندگی نہیں گزار تاہر گز امید نہیں کہ وہ کسی فوق الطاقت بلا میں مبتلا ہو۔" یعنی اللہ تعالیٰ کے خوف سے زندگی گزارنے والا کبھی غیر معمولی مشکلات اور مصیبتوں میں گرفتار نہیں ہوتا۔فرمایا کہ "کوئی بلا بغیر اذن کے نہیں آتی جیسے مجھے یہ دعا الہام ہوئی۔رَبِّ كُلَّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِيْ وَانْصُرْنِي وَارْحَمْنِی۔" فرماتے ہیں کہ " ہمارا ایمان ہے کہ سب اس کے ہاتھ میں ہے خواہ اسباب سے کرے خواہ بلا اسباب۔" ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 274 تا 276) اللہ تعالیٰ کوئی ذریعہ بناتا ہے یا نہیں بناتا، اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔اس لئے یہ دونوں دعائیں پڑھنی چاہئیں۔اس کی طرف توجہ دیں اور سمجھیں۔