خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 143 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 143

143 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2018 خطبات مسرور جلد 16 گے۔ایک اندرونی۔دوسرا بیرونی۔اندرونی فتنہ یہ ہو گا کہ مسلمان کچی ہدایت پر قائم نہ رہیں گے اور شیطانی عمل دخل کے نیچے آجائیں گے۔اعمال صالحہ ان میں کوئی نہیں ہو گا۔" قمار بازی، زناکاری، شراب خوری اور ہر قسم کے فسق و فجور میں مبتلا ہو کر حدود اللہ سے نکل جائیں گے اور خدا تعالیٰ کی نواہی کی پرواہ نہ کریں گے۔صوم و صلوۃ کو ترک کر دیویں گے اور امر الہی کی بے حرمتی کی جائے گی اور قرآنی احکام کے ساتھ ہنسی ٹھٹھا کیا جائے گا۔" یہ تو اندرونی فتنہ ہے کہ مسلمانوں کی عملی حالت بگڑ گئی ہے۔اکثریت مسلمانوں کی یہی ہے۔آپس میں بھی آپ دیکھ لیں مسلمان دنیا میں بھی کس طرح ایک دوسرے پر ظلم ہو رہے ہیں۔اور بیر ونی فتنہ یہ ہو گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر افتراء کئے جائیں گے۔اور یہ بھی آجکل بہت بڑھ کر ہو رہا ہے" اور ہر قسم کے دل آزار حملوں سے اسلام کی تو ہین اور تخریب کی کوشش کی جاوے گی۔مسیح کی خدائی کو منوانے کے لئے اور اس کی صلیبی لعنت پر ایمان لانے کے واسطے ہر قسم کے خیلے اور تدابیر عمل میں لائی جاویں گی۔غرض ان دونوں اندرونی اور بیرونی عظیم الشان فتنوں کی اصلاح کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ ہی یہ بشارت ملی کہ ایک شخص آپ کی اُمت میں سے مبعوث کیا جاوے گا، جو بیرونی فتنہ اور صلیبی مذہب کی حقیقت کو توڑ دینے والا ہو گا اور اسی لحاظ سے وہ مسیح ابن مریم ہو گا اور اندرونی تفرقوں اور بے راہیوں کو دور کر کے ہدایت کی سچی راہ پر قائم کرے گا اس لئے مہدی کہلائے گا۔اسی بشارت کی طرف وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ (الجمعة:4) میں بھی اشارہ ہے۔" ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 444-445) پس ہم نے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا ہے ہمارے اللہ تعالیٰ سے تعلق اور تقویٰ کے معیار دوسرے مسلمانوں سے بلند ہونے چاہئیں۔آپ نے جو عام طور پہ نقشہ کھینچا ہے وہ ہمارا نقشہ نہیں ہونا چاہئے۔ہماری عملی حالت دوسروں سے بہتر ہونی چاہئے۔ہمارے عمل ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق اور صالح ہونے چاہئیں۔چنانچہ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " آدمی کو بیعت کر کے صرف یہی نہ مانا چاہئے کہ یہ سلسلہ حق ہے۔" سچائی کو مان لیا۔کافی ہو گیا۔"اور اتناماننے سے اسے برکت ہوتی ہے۔" فرماتے ہیں کہ "صرف ماننے سے اللہ تعالیٰ خوش نہیں ہو تاجب تک اچھے عمل نہ ہوں۔کوشش کرو کہ جب اس سلسلہ میں داخل ہوئے ہو تو نیک بنو۔متقی بنو۔ہر ایک بدی سے بچو۔یہ وقت دعاؤں سے گزارو۔رات اور دن تضرع میں لگے رہو۔جب ابتلا کا وقت ہوتا ہے تو خد اتعالیٰ کا غضب بھی بھڑ کا ہوا ہوتا ہے۔ایسے وقت میں دعا، تضرع، صدقہ خیرات کرو۔زبانوں کو نرم رکھو۔استغفار کو اپنا معمول بناؤ۔نمازوں میں دعائیں کرو۔مثل مشہور ہے کہ منتیں کرتا ہوا کوئی نہیں مرتا۔نر امانا انسان کے کام نہیں آتا۔اگر انسان مان کر پھر اسے پس پشت ڈال دے تو اسے فائدہ نہیں ہوتا۔پھر اس کے بعد یہ شکایت کرنی کہ بیعت سے فائدہ نہیں ہوا بے سود ہے۔خدا تعالیٰ صرف قول سے راضی نہیں ہوتا۔" عمل صالح کی تعریف: عمل صالح کی تعریف کرتے ہوئے کہ عمل صالح کیا چیز ہے فرمایا کہ " قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ عمل صالح بھی رکھا ہے۔عمل صالح اسے کہتے ہیں جس میں ایک ذرہ فساد نہ ہو۔یاد رکھو کہ