خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 142 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 142

خطبات مسرور جلد 16 142 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2018 لکھتے ہیں کہ ہم کو اس کا جواب نہیں آیا۔ایسے خطوط پڑھ کر مجھے ایسے لوگوں پر افسوس اور رحم آتا ہے کہ انہوں نے ہماری اصل غرض اور منشا کو نہیں سمجھا۔وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ رسمی طور پر یہ لوگ ہماری طرح شعائر اسلام بجالاتے ہیں اور فرائض الہی ادا کرتے ہیں حالانکہ حقیقت کی روح ان میں نہیں ہوتی۔"صرف فرضی طور پہ نہیں کرنا۔ظاہری طور پر نہیں کرنا بلکہ حقیقی طور پر عبادت بھی ہونی چاہئے اور دوسرے فرائض بھی ادا ہونے چاہئیں۔" اس لیے یہ باتیں اور وساوس سحر کی طرح کام کرتے ہیں۔" وسوسے آجاتے ہیں اور جو باتیں کر رہے ہوتے ہیں اس کا اثر پھر ان پر جادو کی طرح ہو جاتا ہے۔وہ ایسے وقت نہیں سوچتے کہ ہم حقیقی ایمان پیدا کرنا چاہتے ہیں جو انسان کو گناہ کی موت سے بچالیتا ہے اور ان رسوم و عادات کے پیر ولوگوں میں وہ بات نہیں۔ان کی نظر ظاہر پر ہے حقیقت پر نگاہ نہیں۔ان کے ہاتھ میں چھلکا ہے جس میں مغز نہیں۔" ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 237 تا 239) پس بیشک ظاہری عمل تو مسلمان کرتے ہیں لیکن روح ان میں نہیں ہے۔تقویٰ نہیں ہے۔اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ اگر مسلمان کہلانے والوں کے اعمال، اعمال صالحہ ہیں تو پھر ان کے پاک نتائج کیوں نہیں پیدا ہوتے۔آپ بیان فرماتے ہیں کہ " یہ لوگ " یعنی بعض مسلمان " سمجھتے نہیں کہ ہم میں کون سی بات اسلام کے خلاف ہے۔ہم لا إِلهَ إِلَّا الله کہتے ہیں اور نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور روزے کے دنوں میں روزے بھی رکھتے ہیں اور زکوۃ بھی دیتے ہیں۔یعنی کہ یہ لوگ جو غیر از جماعت مسلمان ہیں ، دوسرے مسلمان ہیں کہتے ہیں ہماری ہر بات جو ہے وہ تو ہم اسلام کے مطابق کر رہے ہیں۔کوئی ایسی بات تو ہے نہیں کہ تمہارے ساتھ مجڑ کے ہم زیادہ اچھی طرح اسلام کی حقیقت کو سمجھ جائیں کیونکہ لا إِلَهَ إِلَّا اللہ ہم کہتے ہیں۔نمازیں ہم پڑھتے ہیں۔روزے ہم رکھتے ہیں۔زکوۃ بھی ہم دیتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ یہی کچھ نہیں۔فرمایا کہ " مگر میں کہتا ہوں کہ ان کے تمام اعمال اعمال صالحہ کے رنگ میں نہیں ہیں بلکہ محض ایک پوست کی طرح ہیں جن میں مغز نہیں ہے۔ورنہ اگر یہ اعمالِ صالحہ ہیں تو پھر ان کے پاک نتائج کیوں پیدا نہیں ہوتے؟ اعمال صالحہ تو تب ہو سکتے ہیں کہ وہ ہر قسم کے فساد اور ملاوٹ سے پاک ہوں۔لیکن ان میں یہ باتیں کہاں ہیں ؟ میں کبھی یقین نہیں کر سکتا کہ ایک شخص مومن اور متقی ہو اور اعمالِ صالحہ کرنے والا ہو اور وہ اہل حق کا دشمن ہو حالانکہ یہ لوگ ہم کو بے قید اور دہر یہ کہتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے۔میں نے اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کیا کہ مجھے کو اللہ تعالیٰ نے مامور کر کے بھیجا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کی کچھ عظمت ان کے دل میں ہوتی تو وہ انکار نہ کرتے اور اس سے ڈر جاتے کہ ایسانہ ہو کہ ہم خدا تعالیٰ کے نام کی تخفیف کرنے والے ٹھہریں۔لیکن یہ تب ہوتا جب کہ ان میں حقیقی اور اصل ایمان اللہ تعالیٰ پر ہوتا اور وہ یوم الجزاء سے ڈرتے اور لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ (بنی اسرائیل: 37) پر اُن کا عمل ہو تا۔" (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 343) یعنی وہ بات نہ کرو جس کا تمہیں علم نہیں ہے۔اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ مسیح موعود کی آمد کا مقصد اندرونی اور بیرونی فتنوں اور حملوں سے اسلام کو محفوظ کرنا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی بات کی خبر دی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ کے واسطے خبر دی تھی کہ اس وقت دور نگ کے فتنے ہوں