خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 141
خطبات مسرور جلد 16 141 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 مارچ2018 (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 398) میں ہماری بات مشرق و مغرب تک پہنچا دیتے ہیں۔" جو مخالفت کر رہے ہیں وہ بھی حقیقت میں مخالفت کے ذریعہ سے ہی احمدیت اور حقیقی اسلام کا پیغام پہنچا رہے ہیں کیونکہ اس طرح بھی لوگوں کو توجہ پیدا ہوتی ہے۔بہت سارے لوگ خط لکھتے ہیں اور رابطہ کرتے ہیں کہ فلاں مولوی کی مخالفت کی وجہ سے یا فلاں جگہ آپ کے خلاف باتیں ہو رہی تھیں۔ان کی وجہ سے ہمیں تجسس پیدا ہوا تو ہم نے تحقیق کرنی شروع کی۔اور اب تو انٹرنیٹ کے ذریعہ سے ہر جگہ جماعتی لٹریچر بھی میسر ہے اور بہت ساری باتیں مل جاتی ہیں۔موازنہ بھی کیا جا سکتا ہے۔تو تحقیق کر کے اب ہم جماعت میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔تو مولویوں کا، مخالفین کا یہ ذریعہ بھی تبلیغ کا ایک ذریعہ بن رہا ہے۔نیا فرقہ بنانے کی کیا ضرورت تھی؟: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بعض لوگوں کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہ ہم اسلام کی تعلیم پر عمل کر رہے ہیں اور پہلے ہی جو اتنے فرقے ہیں تو پھر ایک نیا فرقہ بنانے کی کیا ضرورت ہے اور آپ کی جماعت میں شامل ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ ہمارے احمدی بھی معترضین کی یہ باتیں سن کر خاموش ہو جاتے ہیں۔اُس زمانے میں اور آجکل بھی بعض ایسے ہیں جو خاموش ہو جاتے ہیں کہ کیا جواب دیں۔آپ فرماتے ہیں کہ " بہت سے ایسے لوگ ہیں جو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس سلسلہ کی ضرورت کیا ہے کیا ہم نماز روزہ نہیں کرتے ہیں ؟ وہ اس طرح پر دھو کہ دیتے ہیں۔اور کچھ تعجب نہیں کہ بعض لوگ جو نا واقف ہوتے ہیں ایسی باتوں کو سن کر دھو کہ کھا جاویں اور ان کے ساتھ مل کر یہ کہہ دیں کہ جس حالت میں ہم نماز پڑھتے ہیں ، روزہ رکھتے ہیں اور ور دو ظائف کرتے ہیں۔پھر کیوں یہ پھوٹ ڈال دی؟" کہ نیا فرقہ بنا دیا۔تو کیوں پھوٹ ڈال دی۔ہم نماز روزہ کر رہے ہیں تو تمہارے اندر شامل ہونے کی، ایک نیا فتنہ فساد پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ " یاد رکھو کہ ایسی باتیں کم کبھی اور معرفت کے نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔میرا اپنا کام نہیں ہے۔یہ پھوٹ اگر ڈال دی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ڈالی ہے جس نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔" میں نے تو قائم نہیں کیا۔یہ تو اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔"کیونکہ ایمانی حالت کمزور ہوتے ہوتے یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ ایمانی قوت بالکل ہی معدوم ہو گئی ہے اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ حقیقی ایمان کی روح پھونکے جو اس سلسلہ کے ذریعہ سے اس نے چاہا ہے۔ایسی صورت میں ان لوگوں کا اعتراض بیجا اور بیہودہ ہے۔پس یا درکھو کہ ایسا وسوسہ ہر گز ہر گز کسی کے دل میں نہیں آنا چاہئے اور اگر پورے غور اور فکر سے کام لیا جاوے تو یہ وسوسہ آہی نہیں سکتا۔غور سے کام نہ لینے کے سبب ہی سے آتا ہے جو ظاہری حالت پر نظر کر کے کہہ دیتے ہیں کہ اور بھی مسلمان ہیں۔اس قسم کے وسوسوں سے انسان جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔" فرمایا کہ " میں نے بعض خطوط اس قسم کے لوگوں کے دیکھے ہیں جو بظاہر ہمارے سلسلہ میں ہیں " بیعت کی ہوئی ہے " اور کہتے ہیں کہ ہم سے جب یہ کہا گیا کہ دوسرے مسلمان بھی بظاہر نماز پڑھتے ہیں اور کلمہ پڑھتے ہیں ، روزے رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں اور نیک معلوم ہوتے ہیں پھر اس نئے سلسلہ کی کیا حاجت ہے؟" آپ فرماتے ہیں کہ " یہ لوگ باوجودیکہ ہماری بیعت میں داخل ہیں ایسے وسوسے اور اعتراض سن کر