خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 6 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 6

خطبات مسرور جلد 16 6 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 جنوری 2018 حالات کے باوجود پانچ ہزار فرانک سیفا کی رقم چندے میں ادا کر دی اور کہنے لگے کہ یہ میرا اور میری فیملی کا چندہ ہے۔ٹھیک ہے حالات خراب ہیں لیکن چندے کی برکات سے میں محروم نہیں رہنا چاہتا۔چندہ دینے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی کسی طرح سکون ملتا ہے۔اس بارے میں آئیوری کوسٹ کے ہمارے ایک مبلغ لکھتے ہیں کہ بنڈو کو شہر آئیوری کوسٹ میں اسلام کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور مولویوں کی اکثریت ہے۔یہاں ایک زیر تبلیغ دوست عبد الرحمن صاحب نے بیعت کی تھی۔ان کو جماعت کے ساتھ تعارف ایک پمفلٹ کے ذریعہ ہوا تھا۔وہ بیان کرتے ہیں کہ میں چار سال قبل مع فیملی عیسائیت سے مسلمان ہوا تھا۔لیکن میر ادل مطمئن نہیں ہو تا تھا لیکن جب جماعت کے متعلق پتا چلا اور مشن ہاؤس جا کر بعض سوالات کئے تو مجھے میرے سارے سوالوں کے جوابات مل گئے اور میں نے بیعت کر لی۔کہتے ہیں جب میں نے بیعت کی تو دسمبر کا مہینہ تھا۔مبلغ صاحب نے مسجد میں چندہ وقف جدید کی اہمیت بتائی اور چندے کی تحریک کی۔میری جیب میں اس وقت دو ہزار فرانک سیفا تھا جس میں سے ایک ہزار میں نے اسی وقت وقف جدید کی مد میں دے دیئے۔کہتے ہیں الحمد للہ اس دن سے اللہ تعالیٰ نے میری زندگی ہی بدل دی ہے۔اللہ تعالیٰ نے میرے کام میں برکت ڈال دی ہے۔جس جگہ میں کام کرتا ہوں وہاں افسروں سمیت سب میری عزت کرتے ہیں اور محدود آمدنی میں بھی اتنی برکت ہے کہ خوشحال زندگی گزار رہا ہوں۔موصوف بیعت کرنے کے بعد پہلے دن سے ہی چندے کے نظام کا مستقل حصہ بن گئے ہیں۔تنزانیہ کے ایک گاؤں کے ایک نو مبایع چینائی پاؤلو (Jinai Paulo) صاحب کی مثال ہے۔گاؤں کا نام Shatimba ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ میں چندہ دینے کے حوالے سے بہت کنجوسی کرتا تھا۔کہتے ہیں جب مجھے چندے کے بارے میں یاد دہانی کروائی جاتی تو میں کوئی نہ کوئی بہانہ بنادیتا تھا۔کہتے ہیں میں کو ئلہ تیار کرنے کا کام کرتا ہوں اور میرے مالی حالات بھی اچھے نہ تھے اس لئے بھی چندہ دینے سے گریز کرتا تھا۔لیکن جب سے مجھے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا مضمون سمجھ آیا ہے میری زندگی ہی بدل گئی ہے اور اس سال جب میں نے فصل لگائی تو جس کھیت سے پہلے آٹھ یا دس بوریاں ملتی تھیں اسی کھیت سے چاولوں کی چھپین بوریاں مجھے حاصل ہوئیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا نتیجہ ہے۔جب سے میں نے چندہ دینا شروع کیا ہے میری زندگی بدل گئی ہے۔میرے مالی حالات اچھے ہو گئے ہیں۔اب میں چھ کمروں کا نیا مکان بنا رہا ہوں اور بڑا گھر بنانے کی وجہ یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ جب بھی جماعتی مہمان ہمارے گاؤں آئیں تو وہ میرے گھر میں رہیں اور مجھے میزبانی کا شرف بخشیں۔اب یہ خرچ بھی جو اپنے رہائشی مکان کی تعمیر پر خرچ کر رہے ہیں اس میں بھی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے دین کی رضا کو مقدم رکھا ہے۔اس کے دین کے لئے خرچ کرنا ان کی پہلی ترجیح ہے۔مالی کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک دن ہمارے مشن ہاؤس میں ایک دوست عبد الرحمن صاحب آئے اور کہنے لگے کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔جب ان سے پوچھا کہ آپ کیوں بیعت کرنا چاہتے ہیں تو کہنے لگے کہ