خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 140
خطبات مسرور جلد 16 140 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ2018 آپ فرماتے ہیں کہ " خدا تعالیٰ کے صحیفہ قدرت پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بات حد سے گزر جاتی ہے تو آسمان پر تیاری کی جاتی ہے۔یہی اس کا نشان ہے کہ یہ تیاری کا وقت آگیا ہے۔بچے نبی در سول و مجدد کی بڑی نشانی یہی ہے کہ وہ وقت پر آوے اور ضرورت کے وقت آوے۔لوگ قسم کھا کر کہیں کہ کیا یہ وقت نہیں کہ آسمان پر کوئی تیاری ہو ؟ " آپ پوچھ رہے ہیں۔لوگوں سے سوال کر رہے ہیں کہ قسم کھا کے بتاؤ کہ کیا یہ وقت نہیں ہے۔وہ زمانہ بھی تھا اور آج بھی لوگ یہی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں کسی مصلح کی ضرورت ہے بلکہ پاکستان میں تو مولوی خود یہ کہتے ہیں لیکن مسیح موعود کا انکار ہے۔آپ فرماتے ہیں " مگر یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ آپ ہی کیا کرتا ہے۔ہم اور ہماری جماعت اگر سب کے سب حجروں میں بیٹھ جائیں تب بھی کام ہو جائے گا اور دجال کو زوال آجائے گا۔تِلْكَ الْآيَامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (ال عمران: (141)۔" اس طرح دن آپس میں پھر ا کرتے ہیں۔فرمایا کہ " اس کا کمال بتاتا ہے کہ اب اس کے زوال کا وقت قریب ہے۔کسی چیز کو جب عروج حاصل ہو جائے، جب انتہا پہ پہنچ جائے تو وہ سمجھنے لگے کہ اب میں سب طاقتوں کا مالک ہو گیا ہوں اور سب ترقیاں میرے ہاتھ میں آگئی ہیں تو پھر وہ جو عروج ہے اس پر پہنچ کر پھر وہاں سے زوال شروع ہو جاتا ہے۔اسی طرح اب ان طاقتوں کا بھی زوال شروع ہو گیا ہے۔چاہے وہ اسلام کے خلاف طاقتیں ہیں یا وہ لوگ جو احمدیت کے خلاف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ " اس کا ارتفاع ظاہر کرتا ہے کہ اب وہ نیچا دیکھے گا۔انتہائی بلندی پہ پہنچ گیا۔اب یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اب وہ نیچے کی طرف آئے گا۔" اس کی آبادی اس کی بربادی کا نشان ہے۔" وہ سمجھتا ہے کہ اس کی طاقت اور آبادی بہت زیادہ ہے تو اب یہ بربادی کا نشان بن جائے گی۔"ہاں ٹھنڈی ہوا چل پڑی ہے۔" اللہ تعالیٰ کے کام آہستگی کے ساتھ ہوتے ہیں۔ٹھیک ہے۔نشان شروع ہو گیا۔اللہ تعالیٰ کے کام آہستگی سے ہوتے ہیں اور وہ انشاء اللہ ہو جائیں گے۔آپ فرماتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہ ہوتی تاہم زمانے کے حالات پر نظر کر کے مسلمانوں پر واجب تھا کہ وہ دیوانہ وار پھرتے اور تلاش کرتے کہ مسیح اب تک کیوں نہیں کسر صلیب کے لئے آیا۔ان کو یہ نہ چاہئے تھا کہ اسے اپنے جھگڑوں کے لئے بلاتے۔" اسلام کی غیرت تھی تو اسلام کے دفاع کے لئے بلاتے۔مسیح کو تلاش کرتے ، نہ کے اپنے جھگڑوں کو حل کرنے کے لئے۔فرمایا " کیونکہ اس کا کام کسر صلیب ہے اور اسی کی زمانے کو ضرورت ہے۔" ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 396 تا 398) اسی طرح ایک جگہ فرمایا کہ دہریت بھی پھیل رہی ہے زیادہ اور میں اس کے رڈ کے لئے بھی آیا ہوں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 7 صفحہ 28) آپ فرماتے ہیں کہ " اسی لئے اس کا نام مسیح موعود ہے۔اگر ملانوں کو بنی نوع انسان کی بھلائی اور بہبودی مد نظر ہوتی تو وہ ہر گز ایسا نہ کرتے جیسا ہم سے کر رہے ہیں۔ان کو سوچنا چاہئے تھا کہ انہوں نے ہمارے خلاف فتوی لکھ کر کیا بنا لیا ہے۔جسے خدا تعالیٰ نے کہا کہ ہو جائے اسے کون کہہ سکتا ہے کہ نہ ہو۔"فتویٰ لکھا تو اس کا کیا فائدہ ہوا۔جماعت تو اسی طرح ترقی کر رہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔پھر کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔آپ فرماتے ہیں " یہ لوگ جو ہمارے مخالف ہیں یہ بھی ہمارے نوکر چاکر ہیں کہ کسی نہ کسی رنگ