خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 139
خطبات مسرور جلد 16 139 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2018 اس پر اس چیف نے یا بادشاہ نے کہا کہ اس علاقے کا خدا میں ہوں۔میں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں اور تم لوگ یہ اچھی طرح جانتے ہو کہ میں کیا فیصلہ کرنے لگاہوں اور جس کو میں یہ کہہ دوں کہ وہ کل تک مر جائے گا تو وہ ضرور مرتا ہے۔ابراہیم صاحب نے کہا کہ ٹھیک ہے تم اپنے روایتی لوگوں کو کہتے ہو گے لیکن میں اس بات میں تمہیں کچھ نہیں کہتا۔مگر میں دین نہیں چھوڑوں گا کیونکہ حقیقت یہی ہے اور سچا اسلام یہی ہے۔اس پر چیف کو مزید غصہ آیا۔اس نے اپنے لوگوں کو کہا ان کو لے جا کے کمرے میں بند کر دو۔وہ لے کے جارہے تھے تو ابراہیم صاحب نے ان لوگوں کو کہا کہ تم میرے بیچ میں نہ پڑو اور اس معاملے کو چھوڑو۔مجھے بند کرنے کی بجائے جانے دو۔خیر وہ لوگ بھی لالچی ہوتے ہیں کچھ رقم لے کے انہوں نے ان کو چھوڑ دیا۔اس بادشاہ نے یا چیف نے ان پر صبح کا سورج کیا طلوع کر وانا تھا اگلے دن ہی اطلاع ملی کہ اس بادشاہ کو فالج ہو گیا اور وہ ہلنے جلنے کے قابل نہیں رہا اور دو دن بعد ہی وہ فوت ہو گیا۔یہ دیکھ کر ان کے بڑے بھائی جو اُن کے مخالف تھے انہوں نے خاندان والوں سے کہا کہ ہماری صلح کرا دیں۔انہوں نے کہا میری تو لڑائی کسی سے تھی ہی نہیں۔ہم تو ایسے ہی صلح جو ہیں اور اسلام کا حقیقی پیغام بھی یہی ہے۔تو اس چیف کے مرنے کا یہ نشان دیکھ کر وہاں علاقے میں اس کا بہت اثر ہوا اور بڑا چرچا ہوا۔احمدیت کی سچائی ثابت ہوئی۔تو یہ چیزیں ہیں جو آج بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تائید میں ثابت ہو رہی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " دیکھو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہزاروں نشان میری تصدیق کے ظاہر ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں اور آئندہ ہوں گے۔" یہ نہیں کہ بند ہو گئے۔آپ فرماتے ہیں کہ آئندہ ہوں گے۔"اگر یہ انسان کا منصوبہ ہوتا تو اس قدر تائید اور نصرت اس کی ہر گز نہ ہوتی۔" (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 48) یہ اللہ تعالیٰ کا ہی منصوبہ ہے جس کی وجہ سے تائید ہو رہی ہے۔ایک موقع پر ضرورت مصلح اور مسیح موعود کی ضرورت کے بارے میں بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : "جیسا کہ ہر ایک فصل کے کاٹنے کا وقت آ جاتا ہے۔ایسا ہی اب مفاسد کے دُور کر دینے کا وقت آگیا ہے۔جو فساد دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ، جو برائیاں پھیلی ہوئی ہیں ان کو دور کرنے کا وقت آگیا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔" صادق کی تو ہین اور گستاخی انتہا تک کی گئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر " آپ فرماتے ہیں نعوذ باللہ مکھی اور زنبور جتنی بھی نہیں کی گئی۔زنبور سے بھی انسان ڈرتا ہے " ایک بھڑ جو ہے " اور چیونٹی سے بھی اندیشہ کرتا ہے لیکن حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہنے میں کوئی نہیں جھجکتا۔كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا کے مصداق ہو رہے ہیں۔جتنا منہ ان کا کھل سکتا ہے انہوں نے کھولا اور منہ پھاڑ پھاڑ کر سب وشتم کئے۔اب واقعی وہ وقت آگیا ہے کہ خدا تعالیٰ ان کا تدارک کرے۔ایسے وقت میں وہ ہمیشہ ایک آدمی کو پیدا کیا کرتا ہے جو اس کی عظمت اور جلال کے لئے بہت جوش رکھتا ہے۔ایسے آدمی کو باطنی مدد کا سہارا ہوتا ہے۔دراصل اللہ تعالیٰ سب کچھ آپ ہی کرتا ہے مگر اس کا پیدا کرنا ایک سنت کا پورا کرنا ہوتا ہے۔وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا (الفتح : 24) اب وہ وقت آگیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی سنت کے موافق بھیجا ہے۔