خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 138 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 138

خطبات مسرور جلد 16 138 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 مارچ2018 ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 30-31) تائیدیں اور نصر تیں کر رہا ہے یا میرے سلسلہ کو مٹا رہا ہے۔" آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ ایک آواز جو ایک چھوٹی سی بستی سے اٹھی تھی دنیا کے 210 ملکوں میں پھیلی ہوئی ہے اور یہی آپ کی سچائی کی دلیل بھی ہے۔دور دراز کے علاقے جہاں تیس چالیس سال پہلے تک بھی احمدیت کے پہنچنے کا تصور نہیں تھا، نہ صرف وہاں پیغام پہنچا ہے بلکہ وہاں ایسے پختہ ایمان والے اللہ تعالیٰ پیدا فرما رہا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ایک واقعہ بھی بیان کرتا ہوں۔احمدیت کے حق میں خدا کی قہری تجلی کا نشان: بین افریقہ کا ایک چھوٹا سا ملک ہے۔وہاں 2012ء میں ایک جماعت کا قیام عمل میں آیا۔وہاں کے ایک گاؤں کے ایک احمدی، ان کا نام ابراہیم صاحب ہے۔انہوں نے احمدیت قبول کی۔اس سے پہلے یہ مسلمان تھے اور کافی علم رکھنے والے تھے اور احمدیت قبول کرنے کے بعد انہوں نے اخلاص و وفا میں ترقی کرنی شروع کی۔اپنے رشتہ داروں کو بھائیوں وغیرہ کو تبلیغ کرنی شروع کی۔ان کے بھائی نے ان کی تبلیغ سے تنگ آکر کہ یہ تبلیغ کر کے ہمیں ہمارے دین سے ہٹا رہا ہے، ان سے لڑائی کرنی شروع کر دی لیکن یہ تبلیغ کرتے رہے۔لوگوں کو احمدیت کا پیغام، حقیقی اسلام کا پیغام پہنچاتے رہے۔اور اس طرح ان کی کوششوں سے ارد گرد کے تین گاؤں اللہ تعالیٰ کے فضلے احمدیت میں شامل ہو گئے۔تو ابراہیم صاحب کے بھائی نے اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کے ان کے قتل کا منصوبہ بنایا کہ یہ تو احمدیت کو پھیلا تا چلا جارہا ہے اس لئے ایک ہی علاج ہے کہ ان کو قتل کر دیا جائے۔ابراہیم صاحب کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ان کا بڑا بھائی اور اس کا دوست کوئی گڑھا کھود کر اس میں کچھ ڈال رہے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ خواب کے تین دن بعد ہی ان کے بڑے بھائی کا دوست اچانک بیمار ہوا اور اس کی موت واقع ہو گئی۔اس پر ان کے بھائی نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ احمدی جو ہے اس نے میرے دوست کو کوئی جادوٹونہ کر دیا۔کچھ عرصہ بعد یہ کہتے ہیں کہ میں نے پھر ایک خواب دیکھی کہ ان کا بھائی ایک درخت کے ساتھ لگ کر خود کو ماپ رہا ہے۔اس علاقے میں یہ رواج ہے کہ جب کوئی فوت ہو جاتا ہے تو اس کی قبر کھودنے کے لئے ایک درخت کے تنے کی چھال کے ساتھ میت کو ماپا جاتا ہے تاکہ قبر اس کے سائز کے مطابق بنائی جائے۔کہتے ہیں کچھ دن کے بعد بڑے بھائی کی حاملہ بیوی بیمار ہوئی اور دو دن کے اندر فوت ہو گئی۔اور اس کے سارے بچے بیچارے بیمار ہونے شروع ہوئے۔ان کو فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ان کے بھائی نے مشہور کر دیا کہ یہ جادوٹونہ کرنے والا شخص ہے اور وہاں کا جو مقامی بادشاہ تھا، چیف تھا اس کے پاس شکایت کی۔اس کو مدد کے لئے کہا۔اس نے کچھ پیسے مانگے کہ یہ لے کر آؤ تو میں اس کا علاج کرتا ہوں۔خیر ان کے بھائی نے رقم ادا کر دی۔بادشاہ نے ابراہیم صاحب کو بلایا اور جب یہ گئے تو بڑے غصے اور طیش میں اس نے کہا کہ تم نے یہ کیا تماشا بنایا ہوا ہے۔یہ نیامذ ہب اختیار کیا ہے۔نیادین شروع کر دیا ہے۔اس کو فوراً چھوڑو اور توبہ کرو ورنہ کل کا سورج نہیں تم دیکھ سکو گے۔تمہارے پر کل کا دن نہیں چڑھے گا۔ابراہیم صاحب کہنے لگے کہ مذہب تو میں نے سچ سمجھ کر قبول کیا ہے اس کو تو میں چھوڑ نہیں سکتا اور رہی بات مرنے کی تو زندگی موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔