خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 137
خطبات مسرور جلد 16 137 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2018 امر نہیں۔مجھے کافر کہنے سے پہلے خود کا فر بنا ہو گا۔مجھے بے دین اور گمراہ کہنے میں دیر ہو گی۔مگر پہلے اپنی گمراہی اور رُوسیاہی کو مان لینا پڑے گا۔مجھے قرآن و حدیث کو چھوڑنے والا کہنے کے لئے پہلے خود قرآن اور حدیث کو چھوڑ دینا پڑے گا اور پھر بھی وہی چھوڑے گا۔" یعنی میں نہیں چھوڑوں گا۔وہی چھوڑے گا جو مجھے چھوڑنے والا کہتا ہے۔آپ کہتے ہیں "میں قرآن وحدیث کا مصدق و مصداق ہوں۔میں گمراہ نہیں بلکہ مہدی ہوں۔میں کافر نہیں بلکہ انا اَوَّلُ الْمُؤْمِنین کا مصداق صحیح ہوں۔اور جو کچھ میں کہتا ہوں خدا نے مجھ پر ظاہر کیا کہ یہ سچ ہے۔جس کو خدا پر یقین ہے، جو قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق مانتا ہے اس کے لئے یہی حجت کافی ہے کہ میرے منہ سے سن کر خاموش ہو جائے۔لیکن جو دلیر اور بے باک ہے اس کا کیا علاج۔خدا خود اس کو سمجھائے گا۔۔۔" آپ یہ سب باتیں ایک آئے ہوئے مہمان کو سمجھا رہے تھے۔آپ نے فرمایا کہ " میرے معاملے میں جلدی سے کام نہ لیں بلکہ نیک نیتی اور خالی الذہن ہو کر سوچیں۔" پھر آپ ایک موقع پر فرماتے ہیں کہ : ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 14 تا 16) " پس اگر ان لوگوں کے دل میں بخل اور ضد نہیں تو میری بات سنیں اور میرے پیچھے ہو لیں۔پھر دیکھیں کہ کیا خدا تعالیٰ ان کو تاریکی میں چھوڑتا ہے یا نور کی طرف لے جاتا ہے ؟ میں یقین رکھتا ہوں کہ جو صبر اور صدق دل سے میرے پیچھے آتا ہے وہ ہلاک نہ کیا جاوے گا بلکہ وہ اس زندگی سے حصہ لے گا جس کو کبھی فناء نہیں۔۔۔الیعنی اس دنیا میں بھی عزت پانے والا ہے اور پھر آخری زندگی میں بھی اللہ تعالی اس پر انعامات کرے گا۔آپ فرماتے ہیں " جس کا دل صاف ہے اور خداترسی اس میں ہے اس کے سامنے دوبارہ آنے کے متعلق حضرت عیسی ہی کا فیصلہ پیش کرتا ہوں۔وہ مجھے سمجھاوے کہ یہودیوں کے سوال کے جواب میں (کہ مسیح سے پہلے ایلیا کا آنا ضروری ہے ) جو کچھ مسیح نے کہا وہ صحیح ہے یا نہیں ؟ یہودی تو اپنی کتاب پیش کرتے تھے کہ ملا کی نبی کے صحیفہ میں ایلیا کا آنا لکھا ہے۔مشیل ایلیا کا ذکر نہیں۔" ایلیا کے خود آنے کا ذکر ہے۔مثیل کا ذکر تو نہیں۔اس کے نمونے پر کسی آنے والے کا ذکر تو نہیں لکھا ہوا۔آپ فرماتے ہیں کہ " مسیح یہ کہتے ہیں کہ آنے والا یہی یوحنا ہے چاہو تو " اسے " قبول کر و۔اب کسی منصف کے سامنے فیصلہ رکھو اور دیکھو کہ ڈگری کس کو دیتا ہے۔" ظاہری بات پر اگر فیصلہ کروانا ہے کسی بھی جج کے سامنے رکھ دو اور دیکھو وہ ڈگری کس کو دیتا ہے " وہ یقیناً یہودیوں کے حق میں فیصلہ دے گا کیونکہ ظاہری طور پر جو لکھا ہوا ہے اس کے مطابق فیصلہ ہو گا۔مگر آپ فرماتے ہیں لیکن یہ فیصلہ صحیح نہیں ہے کیونکہ "مگر ایک مومن جو خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور جانتا ہے کہ خدا کے فرستادے کس طرح آتے ہیں وہ یقین کرے گا کہ مسیح نے جو کچھ کہا اور کیا وہی صحیح اور درست ہے۔" آپ فرماتے ہیں " اب اس وقت وہی معاملہ ہے یا کچھ اور ؟" ہے۔بتاؤ " اگر خدا کا خوف ہو تو پھر بدن کانپ جاوے یہ کہنے کی جرات کرتے ہوئے کہ یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔افسوس اور حسرت کی جگہ ہے کہ ان لوگوں میں اتنا بھی ایمان نہیں جتنا کہ اس شخص کا تھا جو فرعون کی قوم میں سے تھا اور جس نے یہ کہا کہ اگر یہ کا ذب ہے تو خود ہلاک ہو جائے گا۔میری نسبت اگر تقویٰ سے کام لیا جاتا تو اتنا ہی کہہ دیتے اور دیکھتے کہ کیا خدا تعالیٰ میری