خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 136
خطبات مسرور جلد 16 136 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ2018 "میرا انکار میرا انکار نہیں ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار ہے۔کیونکہ جو میری تکذیب کرتا ہے وہ میری تکذیب سے پہلے معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ کو جھوٹا ٹھہر الیتا ہے۔جبکہ وہ دیکھتا ہے کہ اندرونی اور بیرونی فساد حد سے بڑھے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ نے باوجود وعدہ إِنَّا نَحْنُ نَزَلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (الحجر: 10) کے ان کی اصلاح کا کوئی انتظام نہ کیا جب کہ وہ اس امر پر بظاہر ایمان لاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آیت استخلاف میں وعدہ کیا تھا کہ موسوی سلسلہ کی طرح اس محمدی سلسلہ میں بھی خلفاء کا سلسلہ قائم کرے گا۔مگر اس نے معاذ اللہ اس وعدہ کو پورا نہیں کیا اور اس وقت کوئی خلیفہ اس اُمت میں نہیں۔اور نہ صرف یہاں تک ہی بلکہ اس بات سے بھی انکار کرنا پڑے گا کہ قرآن شریف نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسی قرار دیا ہے یہ بھی صحیح نہیں ہے۔معاذ اللہ۔کیونکہ اس سلسلہ کی اتم مشابہت اور مماثلت کے لئے ضروری تھا کہ اس چودھویں صدی پر اسی اُمت میں سے ایک مسیح پیدا ہو تا۔اسی طرح پر جیسے موسوی سلسلہ میں چودھویں صدی پر ایک مسیح آیا۔اور اسی طرح پر قرآن شریف کی اس آیت کو بھی جھٹلانا پڑے گا جو اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة:4) میں ایک آنے والے احمدی بروز کی خبر دیتی ہے اور اس طرح پر قرآن شریف کی بہت سی آیتیں ہیں جن کی تکذیب لازم آئے گی۔بلکہ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ الحمد سے لے کر والناس تک سارا قرآن چھوڑنا پڑے گا۔پھر سوچو کہ کیا میری تکذیب کوئی آسان امر ہے ؟ یہ میں از خود نہیں کہتا۔خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حق یہی ہے کہ جو مجھے چھوڑے گا اور میری تکذیب کرے گا، وہ زبان سے نہ کرے مگر اپنے عمل سے اس نے سارے قرآن کی تکذیب کر دی اور خدا کو چھوڑ دیا۔اس کی طرف میرے ایک الہام میں بھی اشارہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا کہ "آنت مِنِى وَآنَا مِنْكَ " آپ فرماتے ہیں کہ " بیشک میری تکذیب سے خدا کی تکذیب لازم آتی ہے اور میرے اقرار سے خدا تعالیٰ کی تصدیق ہوتی اور اس کی ہستی پر قومی ایمان پیدا ہوتا ہے۔اور پھر میری تکذیب میری تکذیب نہیں۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہے۔اب کوئی اس سے پہلے کہ میری تکذیب اور انکار کے لئے جرات کرے۔ذرا اپنے دل میں سوچے اور اس سے فتویٰ طلب کرے کہ وہ کس کی تکذیب کرتا ہے ؟" اس بات کو مزید کھول کر بیان فرماتے ہوئے کہ تکذیب مسیح موعود سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب لازم آتی ہے۔اس کی وجہ کیا ہے؟ کس طرح مسیح موعود کے انکار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہوتی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیوں تکذیب ہوتی ہے؟ یعنی مسیح موعود کے انکار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیوں تکذیب ہوتی ہے ؟ آپ فرماتے ہیں کہ " اس طرح پر کہ آپ نے جو وعدہ کیا تھا کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آئے گا وہ معاذ اللہ جھوٹا نکلا۔پھر آپ نے جو اِمَامُكُمْ مِنكُمْ فرمایا تھا، وہ بھی معاذ اللہ غلط ہوا ہے۔اور آپ نے جو صلیبی فتنہ کے وقت ایک مسیح و مہدی کے آنے کی بشارت دی تھی وہ بھی معاذ اللہ غلط نکلی کیونکہ فتنہ تو موجود ہو گیا مگر وہ آنے والا امام نہ آیا۔اب ان باتوں کو جب کوئی تسلیم کرے گا۔عملی طور پر کیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مکذب ٹھہرے گا یا نہیں ؟ آپ فرماتے ہیں " پس پھر میں کھول کر کہتا ہوں کہ میری تکذیب آسان