خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 135 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 135

خطبات مسرور جلد 16 135 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2018 یعنی اللہ اور اس کے رسول کی بات سچی نکلی اور خدا کا وعدہ پورا ہوا۔پھر ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ: منہاج نبوت پر اس سلسلہ کو آزمائیں اور پھر دیکھیں کہ حق کس کے ساتھ ہے۔خیالی اصولوں اور تجویزوں سے کچھ نہیں بنتا۔اور نہ میں اپنی تصدیق خیالی باتوں سے کرتا ہوں۔میں اپنے دعویٰ کو منہاج نبوت کے معیار پر پیش کرتا ہوں۔پھر کیا وجہ ہے کہ اسی اصول پر اس کی سچائی کی آزمائش نہ کی جاوے۔" فرماتے ہیں کہ "جو دل کھول کر میری باتیں سنیں گے میں یقین رکھتا ہوں کہ فائدہ اٹھا دیں گے اور مان لیں گے۔لیکن جو دل میں بخل اور کینہ رکھتے ہیں ان کو میری باتیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکیں گی۔ان کی تو اخول جیسی مثال ہے۔" یعنی وہ شخص جو بھینگا ہو تا ہے جس کو ایک کے دو نظر آتے ہیں۔"جو ایک کے دو دیکھتا ہے۔اس کو خواہ کسی قدر دلائل دیئے جائیں کہ دو نہیں ایک ہی ہے وہ تسلیم ہی نہیں کرے گا۔کہتے ہیں " آپ مثال دیتے ہیں " کہ ایک آخول خد متگار تھا۔" بھینگا آدمی کسی شخص کا خدمت کرنے والا تھا ملازم تھا۔" آقا نے اس کو " کہا کہ اندر سے آئینہ لے آؤ۔وہ گیا اور واپس آکر کہا کہ اندر تو دو آئینے پڑے ہیں۔کو نسا لے آؤں ؟ آقا نے کہا کہ ایک ہی ہے۔دو نہیں۔اخول نے کہا تو کیا میں جھوٹا ہوں ؟ اس کے "آقا نے کہا اچھا ایک کو توڑ دے۔جب توڑا گیا تو اسے معلوم ہوا کہ در حقیقت میری غلطی تھی۔" آپ فرماتے ہیں کہ "مگر اِن آخولوں کا جو میرے مقابل ہیں کیا جواب دوں ؟" فرماتے ہیں کہ " غرض ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ بار بارا گر کچھ پیش کرتے ہیں تو حدیث کا ذخیرہ جس کو خود یہ ظن کے درجہ سے آگے نہیں بڑھاتے۔ان کو معلوم نہیں کہ ایک وقت آئے گا کہ ان کے رطب و یابس امور پر لوگ جنسی کریں گے۔" جو اوٹ پٹانگ باتیں یہ کرتے ہیں اس پر لوگ جنسی کیا کریں گے۔فرماتے ہیں " یہ ہر ایک طالب حق کا حق ہے کہ وہ ہم سے ہمارے دعویٰ کا ثبوت مانگے۔" بڑی صحیح بات ہے ثبوت مانگنا چاہئے۔اس پر ہر ایک کا حق ہے۔اس کے لئے ہم وہی پیش کرتے ہیں جو نبیوں نے پیش کیا۔" آپ فرماتے ہیں کہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ، عقلی دلائل یعنی موجودہ ضرورتیں جو مصلح کے لئے مدعی ہیں۔پھر وہ نشانات جو خدا نے میرے ہاتھ پر ظاہر کئے میں نے ایک نقشہ مرتب کر دیا ہے۔" آپ فرماتے ہیں " میں نے ایک نقشہ مرتب کر دیا ہے اس میں ڈیڑھ سو کے قریب نشانات دیئے ہیں جن کے گواہ ایک نوع سے کروڑوں انسان ہیں۔بیہودہ باتیں پیش کرنا سعادتمند کا کام نہیں۔فرمایا کہ " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لئے فرمایا تھا کہ وہ جگہ ہو کر آئے گا۔" یعنی مسیح موعود جب آئے گا تو وہ حکم ہو گا اس کا فیصلہ منظور کرو۔" وہ فیصلہ کرنے والا ہو گا اس کا فیصلہ منظور کرو۔" جن لوگوں کے دل میں شرارت ہوتی ہے وہ چونکہ ماننا نہیں چاہتے ہیں اس لئے بیہودہ حجتیں اور اعتراض پیش کرتے رہتے ہیں۔مگر وہ یادر کھیں کہ آخر خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق زور آور حملوں سے میری سچائی ظاہر کرے گا۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر میں افتر ا کر تا تو وہ مجھے فی الفور ہلاک کر دیتا۔مگر میر اسارا کاروبار اس کا اپنا کاروبار ہے۔اور میں اسی کی طرف سے آیا ہوں۔میری تکذیب اس کی تکذیب ہے۔اس لئے وہ خود میری سچائی ظاہر کر دے گا۔" (ملفوظات جلد 4 صفحہ 34-35) پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ مسیح موعود کی تکذیب اور انکار کا نتیجہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار تک تمہیں لے جائے گا۔آپ فرماتے ہیں کہ :