خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 134 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 134

خطبات مسرور جلد 16 134 12 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 مارچ2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 23 / مارچ 2018ء بمطابق 23 / امان 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: 23 مارچ کی تاریخ اور پس منظر : آج 23 / مارچ ہے اور یہ دن جماعت میں یوم مسیح موعود کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔یوم مسیح موعود کے جلسے بھی جماعتیں اس دن کی مناسبت سے منعقد کرتی ہیں۔آئندہ دو دنوں میں ہفتہ اتوار ،weekend آ رہا ہے۔بہت سی جماعتیں یہ جلسے منعقد کریں گی اور اس میں اس کی تاریخ، پس منظر ، سارا کچھ بیان کیا جائے گا۔اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض ارشادات پیش کروں گا جن میں آپ نے مسیح موعود کی بعثت کے مقصد اور ضرورت اور مقام کے حوالے سے بیان فرمایا ہے۔آپ کے دعوے کے بعد نام نہاد مسلمان علماء نے عامۃ المسلمین کو آپ کے خلاف بھڑ کانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔انتہائی کوشش کی۔جس حد تک وہ جاسکتے تھے گئے اور اب تک یہی کر رہے ہیں۔لیکن اللہ تعالی کی تائید سے آپ کی جماعت ترقی کر رہی ہے اور نیک فطرت لوگ جماعت میں شامل ہو رہے ہیں۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدائی وعدوں کے مطابق اپنی آمد کا ذکر کرتے ہوئے اور یہ اعلان فرماتے ہوئے کہ میں ہی آنے والا مسیح موعود ہوں فرماتے ہیں کہ : " توحید حقیقی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عفت، عزت اور حقانیت اور کتاب اللہ کے منجانب اللہ ہونے پر ظلم اور زور کی راہ سے حملے کئے گئے ہیں تو کیا خدا تعالیٰ کی غیرت کا تقاضا نہیں ہو نا چاہئے کہ اس کا سر الصلیب کو نازل کرے؟ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اس زمانے میں حملے عیسائیوں کی طرف سے ہو رہے تھے۔فرماتے ہیں " کیا خدا تعالیٰ اپنے وعدہ اِنا نَحْنُ نَزَلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ (الحجر: 10) کو بھول گیا؟ یقیناً یا در کھو کہ خدا کے وعدے بچے ہیں۔اس نے اپنے وعدہ کے موافق دنیا میں ایک نذیر بھیجا ہے۔دنیا نے اس کو قبول نہ کیا مگر خدا تعالیٰ اس کو ضرور قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کرے گا۔" آپ فرماتے ہیں کہ "میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق مسیح موعود ہو کر آیا ہوں۔چاہو تو قبول کرو۔چاہو تو ر ڈ کرو۔مگر تمہارے رڈ کرنے سے کچھ نہ ہو گا۔خدا تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا ہے وہ ہو کر رہے گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے پہلے سے براہین میں فرما دیا ہے صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُولًا " ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 206)