خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 132 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 132

132 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2018 خطبات مسرور جلد 16 والدہ کا انتقال چھوٹی عمر میں ہی ہو گیا تھا۔انہوں نے ٹی آئی احمد یہ سکول کماسی سے سیکنڈری سکول کی تعلیم حاصل کی۔پھر 1964ء میں انگریزی میں بی اے کیا۔بعد میں ٹیچر ٹریننگ کالج گھانا سے اپنی پیشہ وارانہ تعلیم مکمل کی اور پھر مختلف جگہوں پر ٹیچر مقرر ہوئے اور 1980ء تک اسسٹنٹ ہیڈ ٹیچر رہے۔سالٹ پانڈ سینٹرل ریجن کے ایک سکول میں منتقل ہو گئے اور وہاں انگلش کے سکول ٹیچر رہے۔جس سکول میں ہوتے تھے وہاں مسلمان طلباء کے لئے ان کی سہولتوں کا انتظام کرتے تھے۔انہوں نے وہاں مسلمان طلباء کے لئے مسجد بھی بنوائی۔پھر Nknumah یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جو تھی اس میں یہ انگریزی کے استاد لگے۔پھر مختلف کالجوں میں ان کو پڑھانے کا موقع ملا۔پھر انہوں نے انگریزی پڑھانے کے بارے میں ایک کتاب بھی لکھی جو غانا اور نائیجیریا میں بڑی مشہور ہوئی جو پڑھائی جاتی ہے۔محکمہ سے اس سلسلہ میں ان کو سکالرشپ ملا اور یو کے کی یونیورسٹی آف بینگور (Bangor) ویلز میں انہیں بھجوایا گیا اور یہاں یو کے میں آکے انہوں نے انگریزی زبان میں ڈپلومہ حاصل کیا۔پھر ان کی جماعتی خدمات یہ ہیں کہ غانا میں متعد د جماعتی عہدوں پر فائز رہے۔1980ء میں غانا کی حکومت نے آپ کو Addis Ababa ایتھوپیا کے لئے بطور سفیر منتخب کیا اور اسی عہدہ پر تھے کہ UN نے آپ کو بحیثیت چیئر مین او۔اے۔یو (OAU) لبریشن کمیٹی مقرر کیا جس کی وجہ سے آپ نے موز مبیق اور انگولا کی ریاستوں کو آزادی دلوانے کے لئے نمایاں کردار ادا کیا۔کچھ عرصہ آپ لیبیا میں بھی بطور سفیر مقرر ہوئے۔ان کی خصوصیت تھی، جہاں بھی گئے ان کا اپنا ایک ہمیشہ خاص وصف تھا کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہے اور اپنی یہ پہچان ہمیشہ قائم رکھی۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی ہجرت کے بعد، آپ کے یو کے آنے کے بعد انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کو بھی الوداع کہا اور پھر یہیں آگئے تا کہ اپنے بچوں کے ساتھ خلافت کے قریب رہ سکیں اور یہاں آ کے پھر آپ سکول میں بطور ٹیچر کام کرتے رہے۔ان کو خلافت سے ، ہر خلافت سے ایک خاص عشق تھا۔انہوں نے بڑے پیار اور محبت کا سلوک اور اطاعت کا نمونہ دکھایا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے سلمان رشدی کے خلاف کتاب لکھنے والی جو ایک کمیٹی بنائی تھی اس کا ان کو بھی ممبر بنایا تھا۔تبلیغ کے میدان میں بھی ان کا بڑا نمایاں کردار تھا۔مختلف جگہوں پر تبلیغی سٹال لگاتے تھے۔ریڈیو پر تبلیغی پروگرام کرتے تھے۔مختلف جماعتی مجالس میں سوال وجواب کی مجلس بھی لگاتے تھے اور اسی طرح 1986ء میں جب حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے پکین افریقن احمد یہ مسلم ایسوسی ایشن قائم کی تو ان کو پہلا صدر مقرر کیا۔یہاں پیکم (Peckham) جماعت کے پہلے صدر بھی مقرر ہوئے تھے۔1994ء میں ایم۔ٹی۔اے کے اجراء کے بعد اردو کلاس کے یہ خاص شاگردوں میں سے تھے اور اس وقت اردو سیکھنے کے لئے بڑی محنت کرتے تھے۔جو بھی جتنی بھی کوشش کر سکتے تھے کرتے تھے۔اور اردو کلاس میں یہ بڑے بچے کے نام سے مشہور تھے۔لوگ ان کو جانتے ہیں۔گھانین تھے اور ان کی دو بیویاں تھیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کی وفات کے موقع پر جو مجلس انتخاب خلافت تھی اس کے بھی یہ رکن تھے۔جامعہ کا جب اجراء ہوا ہے تو یہاں یو کے میں کچھ عرصہ انہوں۔