خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 131 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 131

خطبات مسرور جلد 16 131 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2018 مان کے غلطی تو نہیں کر لی۔تو اس قسم کے شبہات دین کے بارے میں ، خدا تعالیٰ کی ذات کے بارہ میں ، حضرت مسیح موعودؓ کے بارہ میں آتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ ایسی حالت میں ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اصل مطلب اور مقصد سے وہ کس قدر دُور ہیں۔غور کرو کیا فرق ہے صحابہ میں اور ان لوگوں میں۔صحابہ یہ چاہتے تھے کہ خدا تعالیٰ کو راضی کریں خواہ اس راہ میں کیسی ہی سختیاں اور تکلیفیں اٹھانی پڑیں۔اگر کوئی مصائب اور مشکلات میں نہ پڑتا اور اسے دیر ہوتی تو وہ روتا اور چلاتا تھا۔الیعنی صحابہ میں سے وہ سمجھتے تھے کہ مشکلات میں پڑنا اللہ تعالیٰ کا قرب دلائے گا۔وہ یہ سمجھ چکے تھے فرماتے ہیں کہ " وہ سمجھ چکے تھے کہ ان ابتلاؤں کے نیچے خدا تعالیٰ کی رضا کا پروانہ اور خزانہ مخفی ہے۔" آپ نے ایک فارسی کا شعر یہاں بیان فرمایا کہ " ہر بلاکیں قوم را حق داده است زیر آن گنج کرم بنهاده است" کہ جو بھی آزمائش خدا تعالیٰ کی طرف سے اس قوم پر آئے اس کے نیچے خدا کے کرم کا ایک خزانہ چھپا ہوتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں: " قرآن شریف ان کی تعریف سے بھرا ہوا ہے۔اسے کھول کر دیکھو۔صحابہ کی زندگی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا عملی ثبوت تھا۔صحابہ جس مقام پر پہنچے تھے اس کو قرآن شریف نے اس طرح پر بیان فرمایا ہے۔فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ (الاحزاب :24) یعنی بعض ان میں سے شہادت پاچکے اور انہوں نے گویا اصل مقصود حاصل کر لیا اور بعض اس انتظار میں ہیں کہ چاہتے ہیں کہ شہادت نصیب ہو۔صحابہ دنیا کی طرف نہیں جھکے کہ عمریں لمبی ہوں اور اس قدر مال و دولت ملے اور یوں بے فکری اور عیش کے سامان ہوں۔" آپ فرماتے ہیں کہ " میں جب صحابہ کے اس نمونے کو دیکھتا ہوں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کمالِ فیضان کا بے اختیار اقرار کرنا پڑتا ہے کہ کس طرح پر آپ نے ان کی کایا پلٹ دی اور انہیں بالکل رُو بخد ا کر دیا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ آپ فرماتے ہیں کہ " خلاصہ یہ کہ ہمارا فرض یہ ہونا چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے جو یا اور طالب رہیں اور اسی کو اپنا اصل مقصود قرار دیں۔ہماری ساری کوشش اور تگ و دو اللہ تعالیٰ کے رضا کے حاصل کرنے میں ہونی چاہئے خواہ وہ شدائد اور مصائب ہی سے حاصل ہو۔یہ رضائے الہی دنیا اور اس کی تمام لذات سے افضل اور بالا تر ہے۔" ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 82-83) اللہ تعالیٰ ہمیں یہ فرض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔نماز کے بعد ایک جنازہ غائب پڑھاؤں گا جو مکرم الحاج اسماعیل بی۔کے آڈو صاحب کا ہے۔غانا کے احمدی تھے۔84 سال کی عمر میں 8 مارچ کو ان کی وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ۔آپ پیدا ئشی احمدی تھے اور ان کے والد کا نام اسماعیل Kwabena آڈو اور والدہ کا نام جنت آڑو تھا۔ان کے والد پہلے عیسائی تھے۔1928ء میں انہوں نے بیعت کی اور جماعت میں شامل ہوئے۔اسماعیل آڈو صاحب کی