خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 5 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 5

خطبات مسرور جلد 16 5 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 جنوری 2018 عطا فرماتا ہے اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔برکینا فاسو کے ملک میں بنفورہ ریجن کی ایک جماعت ہے۔وہاں کے ایک ممبر اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ میں نے ایک سفر پر جانا تھا اور وقف جدید کا سال ختم ہو رہا تھا۔دوسری طرف فصل کی بھی برداشت ہو رہی تھی۔کائی جارہی تھی۔تو میں نے جانے سے پہلے اپنے بچوں سے کہا کہ فصل جب مکمل ہو جائے تو اس میں سے دسواں حصہ نکال کر چندے میں دے دینا۔یہ کہہ کر میں سفر پر چلا گیا۔بعد میں بچے جو فصل تھی، اناج تھا تمام گھر لے آئے اور چندہ ادا نہیں کیا۔کہتے ہیں جب میں واپس آیا اور میں نے دیکھا، پتا کیا تو پتا لگا کہ بچوں نے تو سارا اناج گھر میں رکھ لیا ہے۔اس پر میں نے بچوں سے کہا کہ ابھی سارا اناج گھر سے باہر نکالو اور چندے کا حصہ علیحدہ کرو۔چنانچہ جب بچوں نے وہ سارا اناج گھر سے نکالا اور چندے کا حصہ نکال کر اسی جگہ پہ وہ واپس رکھا تو کہتے ہیں اس میں کوئی بھی کمی نہیں تھی اور بچے یہ چیز دیکھ کر حیران رہ گئے کہ چندہ علیحدہ کیا ہے لیکن اس کے باوجود اناج اتنے کا اتنا ہی ہے۔اس پر کہتے ہیں میں نے انہیں بتایا کہ یہ اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو دکھایا ہے کہ اس کی راہ میں خرچ کرنے سے مال کم نہیں ہو تا بلکہ زیادہ ہو جاتا ہے۔یہ صحیح اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے والے ان لوگوں کا ایمان ہے جو ہزاروں میل دور بیٹھے ہیں اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کیا، مانا۔چندے کی برکت سے مشکلات کے دور ہونے اور مضبوطی ایمان کا بھی ایک واقعہ ہے۔آئیوری کوسٹ کی جماعت دیوینگو ہے۔وہاں سے تعلق رکھنے والے ایک احمدی دوست یعقوب صاحب کہتے ہیں کہ میں کافی دیر سے احمدی تھا لیکن چندے کے نظام میں شامل نہیں تھا۔پہلے میری زندگی ہمیشہ مسائل میں گھری رہتی تھی۔کبھی بچے بیمار رہتے تھے تو کبھی فصل کی وجہ سے پریشانی رہتی۔لیکن گزشتہ تین سال سے میں چندہ وقف جدید کے بابرکت نظام میں شامل ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مالی نظام کا مستقل حصہ بننے کے بعد خدا تعالیٰ نے زندگی بدل دی ہے۔اب میرے بچے پہلے سے زیادہ صحت مند ہیں اور فصل بھی زیادہ ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کس طرح نو مبایعین میں بھی قربانی کی روح پیدا ہو رہی ہے۔آئیوری کوسٹ کے ایک دوست زنگو احمد صاحب نے کچھ عرصہ قبل عیسائیت سے احمدیت قبول کرنے کی توفیق پائی۔اپنے شہر میں اکیلے احمدی ہیں اور باقاعدگی سے میرے خطبات بھی سنتے ہیں۔بہت سے جماعتی پروگرام بھی سنتے رہتے ہیں۔ان میں بڑا اخلاص ہے۔انہوں نے ایمان اور اخلاص میں بڑی ترقی کی ہے۔بیعت کے بعد فریج زبان میں موجود جماعتی لٹریچر کا مطالعہ کیا اور اب ایک اچھے داعی الی اللہ بھی بن چکے ہیں۔تبلیغ کرتے ہیں۔انہوں نے اپنا گاؤں چھوڑ کر ہمارے جماعتی سینٹر کے قریب رہائش اختیار کرلی تا کہ اسلام کے متعلق زیادہ سے زیادہ سیکھ سکیں۔اس دوران ان کے پاس کام کاج نہیں تھا۔جگہ چھوڑی۔کام میں فرق پڑا۔کام کی تلاش میں تھے۔صرف ان کی اہلیہ کچھ پیسے کما رہی تھی اور اس سے گھر کا خرچ چل رہا تھا۔انہیں جب چندے کی تحریک کی گئی تو سخت