خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 130
خطبات مسرور جلد 16 130 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مارچ2018 کر تا تھا۔لڑکا کہنے لگا میں نے خدا سے عہد کیا ہے کہ میں اسے قتل کروں گا یا قتل کرنے کی کوشش میں مارا جاؤں گا۔کہتے ہیں میں نے ابھی اس کا جواب نہیں دیا تھا کہ دوسری طرف سے دوسرے نے بھی اسی طرح آہستہ سے یہی سوال کیا تو میں ان کی جرآت دیکھ کر حیران رہ گیا۔کیونکہ ابو جہل گویا سردار لشکر تھا اور اس کے چاروں طرف آزمودہ کار سپاہی موجود تھے۔بڑے تجربہ کار سپاہی تھے۔میں نے ہاتھ سے اشارہ کر کے کہا کہ وہ ابو جہل ہے۔عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میرا اشارہ کرنا تھا کہ دونوں بچے باز کی طرح جھپٹے اور دشمن کی صفیں کاٹتے ہوئے آن کی آن میں وہاں پہنچ گئے اور اس تیزی سے وار کیا کہ ابو جہل اور اس کے ساتھی دیکھتے رہ گئے اور ابو جہل کو نیچے گر الیا۔عکرمہ بن ابو جہل بھی اپنے باپ کے ساتھ تھا۔وہ اپنے باپ کو تو نہیں بچا سکا مگر اس نے پیچھے سے معاذ پر ایسا وار کیا کہ ان کا دایاں بازو کٹ گیا اور لٹکنے لگا۔معاذ نے عکرمہ کا پیچھا کیا مگر وہ بچ گئے۔چونکہ کٹا ہوا باز و لڑنے میں روک پیدا کر رہا تھا تو معاذ نے اسے زور کے ساتھ کھینچ کر اپنے جسم سے علیحدہ کر دیا اور پھر لڑنے لگ گئے۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 362) تو ان لڑکوں میں غیرت ایمانی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق تھا جس نے انہیں نڈر بنا دیا کہ وہ شخص جو اسلام کو ختم کرنا چاہتا تھا، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی سال تک تکلیفیں دیتارہا اس کا انجام ہمارے ہاتھوں سے ہو۔یہ آجکل کے نام نہاد جہادیوں کی طرح نہیں تھے جو نوجوانوں کو، بچوں کو ریڈیکلائز (radicalize) کر لیتے ہیں کہ آؤ اور اسلام کے لئے جنگ کرو بلکہ ان کا ایک مقصد تھا کہ دشمن اگر ہمیں اب امن نہیں دیتا باوجود اس کے کہ ہم علیحدہ ہو گئے ہیں تو پھر اس کے لئے ہمیں ہر قربانی دینی چاہئے تا کہ امن کا قیام ہو۔نہ کہ فتنہ پیدا ہو۔آجکل تو حکومتوں پہ قبضہ کرنے کے لئے نوجوانوں کو زبر دستی اغوا کیا جاتا ہے۔پھر ریڈیکلائز (radicalize) کیا جاتا ہے۔گزشتہ دنوں یہ خبر تھی کہ سیریا میں چودہ سال کا ایک لڑکا ان سے بیچ کے نکل کے آیا تو کہنے لگا کہ میں سکول سے آرہا تھا مجھے اغوا کر لیا اور اغوا کر کے پھر زبر دستی مجھے ٹریننگ دی۔پہلے میں نہیں مانا تو مجھے پر سختی کی گئی۔آخر مجھ سے جنگ کروائی جاتی تھی اور بڑی مشکل سے پھر میں وہاں سے بیچ کے آیا ہوں۔تو مسلمان اسلام کے نام پر اس قسم کی حرکتیں کر رہے ہیں جو سراسر اسلام کی تعلیم کے خلاف ہیں۔اسلام نے اگر جنگ کی، اسلام نے اگر جانیں دیں اور ان لوگوں میں قربانی دینے کا جذبہ تھا تو اس لئے کہ دین کو بچانا ہے اور دنیا میں امن قائم کرنا ہے۔پس آجکل کے جہادیوں میں اور ان جہاد کرنے والوں میں بڑا فرق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : یہی نمونہ صحابہ کا اپنی جماعت میں دیکھنا چاہتا ہوں: میں یہی نمونہ صحابہ کا اپنی جماعت میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو وہ مقدم کر لیں اور کوئی امر ان کی راہ میں روک نہ ہو۔وہ اپنے مال و جان کو بیچ سمجھیں۔میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگوں کے کارڈ آتے ہیں۔کسی تجارت یا اور کام میں نقصان ہو ایا اور کسی قسم کا ابتلا آیا تو جھٹ شبہات میں پڑ گئے۔" کہ پتا نہیں ہم نے مسیح موعود کو