خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 129 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 129

خطبات مسرور جلد 16 129 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2018 کے مصنف لکھتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ زمانہ جاہلیت کی شاعری میں بھی بہت قدر و منزلت رکھتے تھے اور زمانہ اسلام میں بھی ان کو بہت بلند مقام اور مرتبہ حاصل تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ایک شعر حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے ایسا کہا کہ اسے آپ کا بہترین شعر کہا جا سکتا ہے۔وہ شعر آپ کی دلی کیفیت کو خوب بیان کرتا ہے جس میں حضرت عبد اللہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔لَوْلَمْ تَكُنْ فِيْهِ آيَاتٌ مُّبَيِّنَةٌ كانَتْ بَدِيْهَتُهُ تُنْبِيْكَ بِالْخَبَرِ (الاصابة في تمييز الصحابه جلد 4 صفحہ 75 عبد الله بن رواحة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2005ء) کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اگر سچائی اور صداقت کا اظہار کرنے کے لئے وہ تمام کھلے کھلے اور روشن نشانات نہ بھی ہوتے جو آپ کے ساتھ تھے تو بھی محض آپ کا چہرہ ہی آپ کی صداقت کے لئے کافی تھا جو خود آپ کی سچائی کا اعلان کر رہا تھا۔یہ لوگ تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ دیکھ کر ہی حق کو پہچانا۔پھر تاریخ میں ہمیں دو چھوٹی عمر کے بھائیوں کا بھی ذکر ملتا ہے جن کی جرآت حیرت انگیز تھی۔حضرت معاذ بن حارث بن رفاعہ اور حضرت معوذ بن حارث بن رفاعہ۔غزوہ بدر میں شریک تھے۔ابو جہل کے قتل میں بھی انہوں نے حصہ لیا۔بدر کا جو میدان تھا اس میں شدید جنگ ہو رہی تھی اور مسلمانوں کے سامنے ان سے تین گنازیادہ جماعت تھی جو ہر قسم کے سامان حرب سے آراستہ تھی اور اس عزم کے ساتھ میدان میں نکلی تھی کہ ہم نے اسلام کا نام و نشان مٹا دینا ہے۔مسلمان بیچارے تعداد میں تھوڑے تھے۔اس سارے واقعہ کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی اپنی کتاب سیرۃ خاتم النبیین میں لکھا ہے۔اور مسلمانوں کی غربت اور بے وطنی کی حالت تھی۔ظاہری اسباب کے لحاظ سے اہل مکہ کے سامنے جو مسلمان لوگ تھے یہ چند منٹوں کا شکار تھے مگر توحید اور رسالت کی محبت نے انہیں ایسا بنا دیا تھا۔وہ ایسے اس جذبہ میں ڈوبے ہوئے تھے کہ جس سے زیادہ اس وقت طاقتور دنیا میں اور کوئی چیز نہیں تھی اور یہ ایمان تھا۔ان کا زندہ ایمان جس نے ایک غیر معمولی طاقت ان کے اندر بھر دی تھی۔اس وقت میدان جنگ میں وہ خدمت دین کا ایک ایسا نمونہ دکھا رہے تھے جس کی مثال نہیں ملتی۔ہر ایک شخص دوسرے سے بڑھ کر خدا کی راہ میں جان دینے کے لئے بیقرار نظر آتا تھا۔انصار کے جوش کا، اخلاص کا یہ عالم تھا کہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب عام جنگ شروع ہوئی تو میں نے اپنے دائیں بائیں نظر کی۔مگر کیا دیکھتا ہوں کہ انصار کے دو نوجوان لڑکے میرے پہلو میں کھڑے ہیں۔انہیں دیکھ کر میرا دل کچھ بیٹھ سا گیا کہ ایسی جنگوں میں دائیں بائیں کے ساتھیوں پر انحصار ہوتا ہے اور وہی شخص اچھی طرح لڑ سکتا ہے جس کے پہلو محفوظ ہوں۔مگر عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں اس خیال میں ہی تھا کہ یہ بچے میری کیا حفاظت کریں گے کہ ان لڑکوں میں سے ایک نے مجھے آہستہ سے پوچھا جیسے دوسرے سے اپنی بات چھپانا چاہتا ہو کہ چا! وہ ابو جہل کہاں ہے جو مکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ دیا