خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 128
خطبات مسرور جلد 16 128 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16مارچ2018 رکعت نفل نماز ادا نہ کر لیں۔اسی طرح جب گھر میں داخل ہوتے تھے تو آپ کا پہلا کام یہ ہو تا تھا کہ وضو کر کے دو رکعت نفل نماز ادا کیا کرتے تھے۔(الاصابة في تمييز الصحابه جلد 4 صفحہ 74 عبد الله بن رواحة مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2005ء) یہ لوگ تھے جو اللہ تعالیٰ کو ہر حال میں اور ہر وقت یاد رکھنے والے تھے۔ان کی اطاعت کے معیار کا روایت میں یوں ذکر ملتا ہے۔حضرت ابولیلی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرمارہے تھے۔اس دوران آپ نے فرمایا کہ لوگو! بیٹھ جاؤ۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ مسجد سے باہر خطبہ سننے کے لئے حاضر ہو رہے تھے۔وہ وہیں پر بیٹھ گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا کہ زَادَكَ اللهُ حِرْصًا عَلَى طَوَاعِيَةِ اللهِ وَطَوَاعِيَةِ رَسُوْلِم کہ اے عبد اللہ بن رواحہ ! اللہ اور رسول کی اطاعت کا تمہارا یہ جذبہ اللہ تعالیٰ اور بڑھائے۔دینی باتیں کرنے، دینی مجالس لگانے، بامقصد گفتگو کرنے، ایک دوسرے کے حق ادا کرنے کے لئے ان لوگوں کے کیا معیار تھے۔اس بارہ میں حضرت ابو دردا بیان کرتے تھے کہ میں اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں کہ میرے اوپر کوئی ایک ایسا دن آئے جب میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو یاد نہ کروں۔ہر روز میں ان کو یاد کرتا ہوں اور اس کی وجہ ان کی، حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی، یہ خوبی ہے کہ جب بھی میرے سے ملاقات ہوئی اگر وہ پیچھے سے آرہے ہوتے تو اپنا ہاتھ میرے کندھوں پر رکھ دیتے اور سامنے سے آرہے ہوتے تو سینے پر ہاتھ رکھتے اور فرماتے کہ اے ابو درداء! آؤ ذرا مل بیٹھیں اور ایمان تازہ کریں۔کچھ ایمان کی باتیں کریں۔پھر وہ میرے ساتھ بیٹھتے اور جب تک ہمیں موقع ملتا ہم اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے۔پھر فرماتے کہ اے ابو درداء! یہ ایمان کی مجالس ہیں۔(اسد الغابه جلد 3 صفحہ 236 باب عبد الله بن رواحة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) پس ان ایمان کی مجالس لگانے والوں نے وہ نمونے قائم کئے ہیں جو ہمارے لئے اُسوہ ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی باتوں اور مجلسوں کو کس طرح سند عطا فرمائی۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو عادت تھی کہ جب اپنے کسی صحابی سے ملتے تو ان کو یہ تحریک کرتے تھے کہ تَعَالَ نُؤْمِنْ بِرَبِّنَا سَاعَةً آؤ تھوڑی دیر اپنے رب پر ایمان لے آئیں۔ایک دن انہوں نے یہی بات ایک آدمی سے کہی تو وہ غصہ میں آگیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا کہ یار سول اللہ ! ابن رواحہ کو تو دیکھئے۔یہ لوگوں کو آپ پر ایمان لانے سے موڑ کر تھوڑی دیر کے لئے ایمان کی دعوت دے رہا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يَرْحَمُ اللهُ ابْنَ رَوَاحَق کہ اللہ عبد اللہ بن رواحہ پر رحم کرے۔آپ نے فرمایا کہ وہ ان مجلسوں کو پسند کرتے ہیں جن پر فرشتے بھی فخر کرتے ہیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد 4 صفحہ 676 حدیث 13832 مسند انس بن مالك مطبوعه عالم الكتب العلميه بيروت 1998ء) آپ ایک بلند پایہ شاعر تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار کے شعراء میں حضرت کعب بن مالک اور حضرت حسان بن ثابت کے علاوہ یہ تیسرے بلند پایہ شاعر تھے۔ان کی شاعری رزمیہ تھی۔منجم الشعراء