خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 127
خطبات مسرور جلد 16 127 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مارچ2018 بن رواحہ نے ایک یتیم بچے کے طور پر لے کر پالا اور ان کی تربیت کی تھی۔کہتے ہیں کہ ایک رات میں نے حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا جس میں اپنے اہل خانہ کی یاد کے ساتھ یہ ذکر تھا کہ اب میں کبھی کوٹ کر واپس گھر نہیں جاؤں گا۔بڑے مزے سے وہ شعر گنگنا رہے تھے جن میں حضرت عبد اللہ اپنی اہلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے تھے کہ جمعرات کی وہ شام جب تم نے میرے اونٹ کے پالان کو سفر جہاد کے لئے درست کیا تھا اور آخری دفعہ میرے قریب ہوئی تھی تیری وہ حالت کیا خوب اور مبارک تھی۔تجھ میں کوئی عیب یا خرابی تو نہیں مگر اب میں اس میدان جنگ میں آ چکا ہوں اور اس سے کوٹ کر میں تمہاری طرف کبھی واپس نہیں آؤں گا۔گویا اپنے اہل خانہ کو یہ ان کا غائبانہ الوداع تھا۔کم سن زید نے یہ سناتو افسردہ ہو کر رو دیئے۔حضرت عبد اللہ نے انہیں ڈانٹا اور کہا کہ اے نا سمجھ ! اگر اللہ تعالیٰ مجھے شہادت عطا فرمائے تو تیرا کیا نقصان بلکہ تم تو میری سواری لے کر اکیلے آرام سے اس پر بیٹھ کر واپس لوٹو گے۔(اسد الغابه جلد 3 صفحہ 236-237 باب عبد الله بن رواحة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) میدان جہاد میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے بہادری کے خوب جوہر دکھائے۔حضرت نعمان بن بشیر بیان کرتے تھے کہ حضرت جعفر کی شہادت ہوئی تو حضرت عبداللہ بن رواحہ لشکر کے ایک جانب تھے لوگوں نے ان کو بلایا۔وہ اپنے آپ کو مخاطب کر کے یہ رجزیہ شعر پڑھتے ہوئے آگے بڑھے۔ان کا ترجمہ یہ ہے کہ اے میرے نفس ! کیا تم اس طرح لڑائی نہیں لڑو گے کہ جان دے دو۔موت کے تالاب میں تم داخل ہو چکے ہو۔شہادت کی جو خواہش تم نے کی تھی اسے پورا کرنے کا وقت آچکا ہے۔اب اگر جان کا نذرانہ پیش کر و تو شاید نیک انجام پا جاؤ۔مصعب بن شیبہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت زید اور حضرت جعفر " بھی شہید ہو گئے تو حضرت عبد اللہ بن رواحہ میدان میں آگے تشریف لائے۔جب انہیں نیزہ لگا تو خون کی ایک دھار جسم سے نکلی۔آپ نے اپنے ہاتھ آگے بڑھائے اور ان میں خون لے کر اپنے منہ کے اوپر مل لیا۔پھر وہ دشمن اور مسلمانوں کی صفوں کے درمیان گر گئے مگر آخری سانس تک سر دار لشکر کے طور پر مسلمانوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے اور نہایت موئثر جذباتی رنگ میں مسلمانوں کو انگیخت کرتے ہوئے اپنی مدد کے لئے بلاتے رہے کہ دیکھو اے مسلمانو! یہ تمہارے بھائی کا لاشہ دشمنوں کے سامنے پڑا ہوا ہے۔آگے بڑھو اور دشمنوں کو اپنے اس بھائی کے راستے سے دور کرو اور ہٹاؤ۔چنانچہ مسلمانوں نے اس موقع پر بڑے زور کے ساتھ کفار پر حملہ کیا اور پے در پے حملے کرتے رہے یہاں تک کہ اس دوران حضرت عبد اللہ کی شہادت بھی ہو گئی۔(اسد الغابه جلد 3 صفحہ 237-238 باب عبد الله بن رواحة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) ان کی ایک خصوصیت کے بارے میں ان کی بیوہ نے ان کی شہادت کے بعد بتایا۔ان کی بیوہ کی شادی ہوئی تو اس شوہر نے کہا کہ عبد اللہ بن رواحہ کی پاکیزہ سیرت کے بارے میں مجھے کچھ بتاؤ کہ تو اس خاتون نے کیا ہی خوبصورت گواہی دی۔کہنے لگیں کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ کبھی گھر سے باہر نہیں جاتے تھے جب تک کہ دو