خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 126
خطبات مسرور جلد 16 126 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2018 غزوے پر یا مہم پر جانا ہو تا تو حضرت عبد اللہ بن رواحہ سب سے پہلے اس دستہ میں شامل ہوتے اور سب سے آخر میں مدینہ واپس لوٹا کرتے تھے۔(اسد الغابه جلد 3 صفحہ 236 عبد الله بن رواحة مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) ایک روایت میں آتا ہے اور یہ حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ موتہ میں حضرت زید بن حارثہ کو سر دار لشکر بنایا اور فرمایا کہ اگر یہ شہید ہو جائیں تو حضرت جعفر بن ابی طالب امیر لشکر ہوں گے اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو حضرت عبد اللہ بن رواحہ قیادت سنبھالیں گے۔اگر عبد اللہ بھی شہید ہوں تو مسلمان جس کو پسند کریں اس کو اپنا سر دار بنالیں۔اس لشکر کی روانگی اور الوداع کا وقت آیا تو حضرت عبد اللہ بن رواحہ رونے لگے۔لوگوں نے کہا کہ عبد اللہ روتے کیوں ہو؟ کہنے لگے کہ خدا کی قسم مجھے دنیا سے ہر گز کوئی محبت نہیں ہے۔اس کا کوئی شوق نہیں۔لیکن میں نے اس آیت کہ وَ إِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتما مقْضِيًّا (مریم:72 ) کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر ایک شخص کو ایک دفعہ ضرور آگ کا سامنا کرنا ہے۔پس میں نہیں جانتا کہ پل صراط پر چڑھنے کے بعد پار اترنے پر میرا کیا حال ہو گا۔(اسد الغابه جلد 3 صفحہ 237 باب عبد الله بن رواحة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) لیکن ان اللہ کا خوف رکھنے والوں کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہترین انجام کی جو خبر دی اس کا بھی ذکر ملتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ موتہ کے امرائے لشکر کے بارے میں فرمایا کہ میں نے ان کو جنت میں سونے کے تختوں پر بیٹھے ہوئے دیکھا ہے۔(اسد الغابه جلد 3 صفحہ 238 باب عبد الله بن رواحة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) پس یہ لوگ اپنی مراد کو پانے والے تھے۔ان کا جذبہ شہادت ان کے ایک شعر سے یوں ظاہر ہوتا ہے۔جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ایسے تیر اور نیزے مجھے لگیں جو میری آنتوں سے گزر کر جگر کے پار ہو جائیں اور خدا تعالیٰ کے ہاں میری شہادت قبول ہو جائے۔اور جب لوگ میری قبر سے گزریں تو یہ کہیں کہ خدا اس کا بھلا کرے کیسا عظیم غازی تھا۔جنگ موتہ جس میں یہ شہید ہوئے تھے اس کی کچھ تفصیل اس طرح ہے کہ مونہ کے مقام پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ غانیوں نے مسلمانوں کے خلاف ہر قل شاہ روم سے مدد طلب کی ہے اور اس نے دولاکھ کا لشکر مسلمانوں کے مقابلے کے لئے بھجوایا ہے۔اس موقع پر مسلمان امرائے لشکر نے باہم مشورہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجنا چاہئے کہ دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے اس لئے کمک بھجوائی جائے یا پھر جو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہو اس پر عمل کیا جائے۔اس موقع پر حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے مسلمانوں کے بہت حوصلے بڑھائے اور ان کی رزمیہ شاعری بھی خوب کام آئی۔مسلمانوں کا تین ہزار کا لشکر دولاکھ کے لشکر کے مقابلے میں اکیلے آگے بڑھا۔(اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 7 23 باب عبد الله بن رواحة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی تمنائے شہادت کا ذکر حضرت زید بن ارقم یوں بیان کرتے تھے کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ مجھے اپنی اونٹنی کے پیچھے سوار کر کے غزوہ موتہ میں ہمراہ لے گئے۔زید بن ارقم کو حضرت عبد الله