خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 125
خطبات مسرور جلد 16 125 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2018 غزوہ بدر کے ختم ہونے کے بعد فتح کی خبر مدینہ پہنچانے والے بھی آپ ہی تھے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحہ 398 باب عبد الله بن رواحة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت، محبت اور غیرت کے اظہار کے بھی واقعات ہیں جن کا ایک جگہ یوں ذکر ملتا ہے۔عروہ سے روایت ہے کہ حضرت اسامہ بن زید نے انہیں بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان تھا۔اس کے نیچے فدک کے علاقے کی چادر تھی۔آپ نے اپنے پیچھے اُسامہ کو بٹھایا ہوا تھا۔آپ حضرت سعد بن عبادہ کی عیادت کے لئے بنو حارث بن خزرج قبیلہ میں تشریف لے گئے۔یہ بدر کے واقعہ سے پہلے کی بات ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان اور مشرکین اور یہود ملے جلے بیٹھے تھے۔ان میں عبد اللہ بن ابی بھی تھا اور اس مجلس میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ بھی تھے۔جب مجلس کے قریب پہنچے تو وہاں سواری کی وجہ سے تھوڑی سی گر داڑی۔عبد اللہ بن ابی نے اپنی ناک اپنی چادر سے ڈھانپ لی۔پھر کہنے لگا کہ ہم پر گردنہ ڈالو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں السلام علیکم کہا۔پھر ٹھہرے اور سواری سے اترے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور ان پر قرآن پڑھا۔عبد اللہ بن ابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہنے لگا کہ اے شخص یہ اچھی بات نہیں۔جو تم کہتے ہو اگر سچ ہے تو پھر بھی ہماری مجالس میں ہمیں تکلیف نہ دو اور اپنے ڈیرے کی طرف لوٹ جاؤ اور جو تمہارے پاس آئے اس کے پاس بیان کرو۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ ہماری مجلس میں تشریف لایا کریں۔ہم یہ پسند کرتے ہیں۔(صحیح مسلم كتاب الجهاد والسير باب فی دعا النبی الله و صبره۔۔۔الخ حديث 4659) صلى انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی کہ یہ جو اُن کا سردار ہے وہ کیا کہہ رہا ہے۔تو یہ آپ کا غیرت اور محبت کا بے اختیار اظہار تھا جو عبد اللہ بن رواحہ نے کیا اور ان سرداروں اور دنیا داروں کی کچھ بھی پر واہ نہیں کی۔حضرت ابن عباس سے ایک روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم میں اصحاب کو بھیجا جن میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ بھی شامل تھے۔جمعہ کا دن تھا۔مہم میں شامل باقی اصحاب تو صبح کو روانہ ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ میں پیچھے رہ کر جمعہ کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کر کے پھر ان سے جاملوں گا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو دیکھا کہ مسجد میں موجود ہیں تو نماز جمعہ کے بعد ان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تجھے کس چیز نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ روانہ ہونے سے روک رکھا ہے ؟ انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ؟ میری بے حد خواہش اور تمنا تھی کہ میں نماز جمعہ میں حضور کے ساتھ شریک ہو کر حضور کا خطبہ سن لوں اور پھر پیچھے سے جاکر اس دستے سے جاملوں گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمین میں جو کچھ ہے اگر وہ سب بھی تم خرچ کر ڈالو تو جو لوگ حسب ہدایت علی الصبح مہم پر روانہ ہو کر سبقت لے گئے وہ اجر اور ثواب تم ہر گز نہیں پاسکتے۔(سنن الترمذی ابواب الجمعه باب ما جاء في سفر يوم الجمعة حديث 527) تو یہاں ضروری ہے کہ جو اطاعت ہے وہ فرض ہے۔اس کے بعد روایات میں آتا ہے کہ جب کسی