خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 124 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 124

خطبات مسرور جلد 16 124 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2018 دیکھا کہ اس میں پیاز اور لہسن ڈالا ہوا ہے اور مجھے یہ پسند نہیں اس لئے نہیں کھایا۔حضرت ابوایوب انصاری نے عرض کی کہ جسے حضور پسند نہیں کرتے اسے میں بھی ناپسند کرتا ہوں اور آئندہ یہ دونوں چیزیں نہیں کھاؤں گا۔عجیب عشق و محبت کے قصے ہیں یہ۔(مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحہ 781 حدیث 23966 مسند ابو ایوب انصاری مطبوعه عالم الكتب بيروت) (صحیح مسلم الاشربه باب اباحة اكل الثوم۔۔۔الخ حديث 5356 ) ( الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 1 صفحہ 183 ذکر خروج رسول الله عليها الله۔۔۔الخ مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت ابوایوب انصاری تمام غزوات میں شامل ہوئے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحہ 369 باب ابو ایوب انصاری مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) خیبر کی جنگ میں یہودی سردار جو جنگ میں مارا گیا تھا اس کی بیٹی صفیہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آئیں تور خصتانے کے اگلے دن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صبح نماز پڑھانے کے لئے باہر آئے تو دیکھا کہ ابوایوب انصاری باہر پہرہ پر کھڑے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا وجہ ہے کہ تم پہرے پر کھڑے ہو۔انہوں نے عرض کی کہ حضرت صفیہ کے عزیز رشتہ داروں کو ہمارے ہاتھوں نقصان پہنچا ہے۔کچھ مارے بھی گئے ہیں۔اس لئے مجھے خیال پیدا ہوا کہ کوئی شرارت نہ کرے۔کوئی آکے اپنا بدلہ لینے کی کوشش نہ کرے۔اس لئے میں پہرے کے لئے آ گیا تھا۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں یوں دعا کی کہ اے اللہ ! ابوایوب کو ہمیشہ اپنی حفاظت اور امان میں رکھنا جس طرح رات بھر یہ میری حفاظت کے لئے مستعد رہا ہے۔حضرت ابوایوب جنگ روم میں بھی شامل ہوئے۔باوجود اس کے کہ آپ بوڑھے ہو چکے تھے لیکن صرف اس لئے شامل ہوئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قسطنطنیہ کے بارے میں جو پیش خبری تھی اس کو آپ دیکھ سکیں۔بہر حال اس دوران میں آپ بیمار بھی ہو گئے۔جب آپ سے آپ کی آخری خواہش کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے کہا کہ تمام مسلمانوں کو میر اسلام کہنا اور میری قبر دشمن کے علاقے میں جہاں تک جاسکتے ہو وہاں جا کر بنانا۔چنانچہ آپؐ کی وفات کے بعد رات کے وقت آپ کا جنازہ دشمن کی سرزمین میں جہاں تک لے جایا جا سکتا تھا لے جایا گیا اور وہاں آپ کی تدفین ہوئی۔ان کی قبر آج بھی ترکی میں ہے اور دیکھنے والے بتاتے ہیں ، بعض روایتیں ایسی بھی ہیں کہ لوگوں نے بعض بدعات والی روایتیں بھی بنالی ہیں کہ ان سے مانگتے ہیں۔ان سے تو بہر حال نہیں مانگتے لیکن دعا جو ان کی قبر پہ کی جائے وہ قبول بھی ہوتی ہے۔(السيرة الحلبية جلد 3 صفحہ 65 غزوہ خیبر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء)(اسد الغابه جلد 2 صفحه 123 خالد بن زيد بن كليب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) تو بہر حال بعد میں یہ بعض کہانیاں بھی بن جاتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی حفاظت اور امان کی جو دعا کی تھی اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آپ نے بہت سی جنگوں میں شمولیت کی اور ہر جگہ غازی بن کر آئے اور بڑی لمبی عمر پائی۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت عبد اللہ بن رواحہ تھے جو عرب کے مشہور شاعر بھی تھے اور شاعر رسول کے لقب سے بھی جانے جاتے تھے۔(سیر الصحابہ جلد 3 صفحہ 409 مطبوعہ دار الاشاعت کراچی 2004ء)