خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 123 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 123

خطبات مسرور جلد 16 123 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16مارچ2018 حضرت محمد بن مسلمہ کے انتہائی صائب الرائے ہونے اور اطاعت گزار ہونے کے بھی واقعات ملتے ہیں اور اس وجہ سے خلفاء ان پر بہت اعتماد کرتے تھے۔خاص طور پر حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان نے انہیں بعض بہت اہم کام دیئے۔بعض مہمات سپر د کیں۔تو بعض دفعہ عمال کی جو شکایات آتی تھیں، نظام کی طرف سے جو مختلف کام کرنے والے مقرر تھے، ان کے خلاف جب دوسرے ملکوں سے، دوسری جگہوں سے شکایات آتی تھیں تو حضرت عمران کی تحقیق کے لئے محمد بن مسلمہ کو بھیجا کرتے تھے۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحہ 47 باب ذكر المصريين و حصر عثمان مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (اسد الغابه جلد 5 صفحہ 107 محمد بن مسلمة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) ایک ابتدائی صحابی حضرت ابو ایوب انصاری تھے۔یہ وہ خوش قسمت تھے جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کے وقت ابتدائی زمانے میں مدینہ میں میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ہر شخص کی خواہش تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر قیام فرمائیں اور اُس وقت ہر ایک اس بات کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اظہار کر رہا تھا۔آپ کی خدمت میں درخواست دے رہا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اونٹنی کو کھلا چھوڑ دو جہاں اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو گی یہ ٹھہر جائے گی۔ابو ایوب انصاری کی یہ خوش قسمتی ہے کہ اونٹنی ان کے گھر کے سامنے رکی۔لیکن لوگوں کی تسلی پھر بھی نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے گھر بھی قریب ہیں۔ہمارے ہاں ٹھہریں۔اس پر آپ نے قرعہ اندازی کی اور پھر قرعہ اندازی میں بھی حضرت ابوایوب انصاری کا نام ہی نکلا۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 1 صفحہ 183 ذکر خروج رسول الله عله الله۔۔۔الخ مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (سير الصحابہ جلد 3 صفحہ 110 ابو ایوب انصاری مطبوعہ دار الاشاعت کراچی 2004ء) ان کے گھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا۔ان کا جو گھر تھا دو منزلہ تھا۔اوپر کی منزل میں ابوایوب انصاری رہتے تھے۔نچلا حصہ سارا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔وہاں قیام کا واقعہ ہے کہ ایک رات اوپر کی منزل میں یہ تھے تو پانی کا ایک بڑا گھڑایا جو بر تن تھا وہ ٹوٹ گیا۔مٹی کے برتن ہوتے تھے، کی مٹی کے اس میں پانی رکھا جاتا تھا۔اب بھی تیسری دنیا میں ہمارے غریب ملکوں میں پاکستان میں افریقہ میں ایسے برتنوں میں پانی رکھا جاتا ہے۔بہر حال وہ ٹوٹ گیا۔ابوایوب انصاری اور ان کی بیوی ساری رات اپنے لحاف سے اس کو خشک کرتے رہے۔اگلے دن انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رات کا واقعہ سنایا اور عرض کی کہ حضور آپ اوپر کی منزل میں رہائش رکھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی درخواست قبول کر لی اور تقریباً چھ سات مہینے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں مقیم رہے۔مہمان نوازی کا بھی انہوں نے خوب حق ادا کرنے کی کوشش کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے ہوئے کھانے سے یہ کھانا کھاتے تھے۔روایت میں لکھا ہے کہ جو کھانا بیچ کے آتا تھا تو جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نشان ہوتے تھے وہاں سے یہ کھانا کھایا کرتے تھے۔ایک روز دیکھا کہ کھانے پر آپ کے نشان نہیں ہیں اور کھانا کھایا ہوا نہیں لگ رہا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ حضور آپ نے آج کھانا نہیں کھایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کھانا کھانے لگا تو میں نے