خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 122
خطبات مسرور جلد 16 122 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مارچ2018 میں کوئی لغو بات نہیں کرتا۔غیبت نہیں کرتا۔لوگوں کے پیچھے ان کی باتیں نہیں کرتا۔دوسرے یہ کہ کسی مسلمان کے لئے میرے دل میں کینہ اور بغض نہیں ہے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحہ 420 باب ابو دجانة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر حضرت محمد بن مسلمہ کا ذکر ملتا ہے جو ابتدائی انصاری مسلمانوں میں سے تھے۔بڑے بہادر اور نڈر انسان تھے۔اُحد کی جنگ میں محمد بن مسلمہ بھی تھے جو بڑی ثابت قدمی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ڈٹے رہے۔ایک خصوصیت جو ان کو حاصل تھی وہ یہ ہے کہ ان کے حق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ان کو اپنی تلوار عطا فرماتے ہوئے فرمایا کہ جب تک مشرکین کے ساتھ تمہاری جنگ ہو اس تلوار کے ساتھ ان سے جنگ کرتے رہنا۔اور جب ایسا زمانہ آئے کہ مسلمان آپس میں لڑنے لگ جائیں تو یہ تلوار توڑ دینا اور اپنے گھر بیٹھ جانا یہانتک کہ کوئی تم پر حملہ آور ہو یا تمہاری موت آجائے۔انہوں نے اس نصیحت پر عمل کیا اور یہ عمل حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد کیا کہ عملاً اس تلوار کو توڑ دیا اور لکڑی کی ایک تلوار بنائی جو میان میں لٹکاتے تھے۔کسی نے پوچھا کہ اس کا کیا فائدہ ہے ؟ فرمانے لگے کہ اس کی حکمت یہ ہے کہ رعب قائم رہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی تعمیل بھی میں نے کر لی ہے کہ اب لوہے کی تلوار نہیں رکھنی اور لکڑی کی تلوار کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔بعض صحابہ کہتے تھے کہ اگر کسی پر فتنہ کا اثر نہیں ہو ا یعنی وہ فتنہ جب حضرت عثمان کی شہادت کے بعد مسلمانوں میں شروع ہوا تو اس کا اگر کسی پہ اثر نہیں ہوا تو وہ محمد بن مسلمہ تھے۔انہوں نے فتنوں سے بچنے کے لئے ویرانے میں ڈیرہ ڈال لیا اور فرماتے تھے کہ جب تک فتنے ٹل نہیں جاتے میر ایہی ارادہ ہے کہ میں ویرانوں میں زندگی گزاروں۔الطبقات الكبرى لا بن سعد۔جلد 3 صفحہ 338 تا 340 باب محمد بن مسلمة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پس یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے جب جنگ کی تو اس لئے کہ مذہب پر حملہ ہو رہا ہے۔اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مشرکین جو دین کو ختم کرنے کے لئے حملہ کر رہے ہیں ان سے لڑو۔جب تک مسلمان اس بات پر قائم رہے ان کی طاقت بھی ایسی رہی کہ وہ غالب آتے رہے۔اور جب آپس میں لڑائیاں شروع ہوئیں ، جب منافقین کی باتوں میں آکر آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے لگے تو بیشک حکومتیں تو چلتی رہیں لیکن وحدت نہیں رہی اور آہستہ آہستہ حکومت بھی کمزور ہوتی گئی۔اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے آپس میں جو اختلافات ہیں ان کی انتہا ہوئی ہوئی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ایک دوسری پیشگوئی تھی وہ بھی پوری ہو چکی ہے کہ اندھیرے زمانے کے بعد جب روشنی کا زمانہ آئے، مسیح موعود کا زمانہ آئے تو مسیح موعود کو مان لینا اور جماعت کے ساتھ منسلک ہو جانا کہ اسی میں برکت ہے۔لیکن اس آنے والے کو نہ مان کر اب ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان اپنے ہی ملکوں میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو رہے ہیں اور اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج غیر مسلم دنیا عملاً مسلمانوں پر حکومت کر رہی ہے۔