خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 121 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 121

121 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2018 خطبات مسرور جلد 16 ساتھ جنگ بدر میں شامل ہوئے اور انتہائی بہادری کے جوہر دکھائے۔اسی طرح اُحد کی جنگ میں بھی شمولیت کی انہیں توفیق ملی اور جنگ کا رخ پلٹنے کے بعد، یعنی جب مسلمان پہلے جیت رہے تھے تو پھر رخ پلٹا اور ایک جگہ چھوڑنے کی وجہ سے کافروں نے دوبارہ حملہ کیا اور جنگ کا پانسہ مسلمانوں کے خلاف ہو گیا تو جو صحابہ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہ گئے تھے ان میں حضرت ابو دجانہ بھی شامل تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں یہ انتہائی زخمی بھی ہو گئے تھے لیکن ان زخموں کے باوجود یہ پیچھے نہیں ہے۔(سير الصحابه جلد 3 صفحہ 207 حضرت ابو دجانه انصاری مطبوعہ دار الاشاعت کراچی 2004ء) الاستیعاب جلد 4 صفحہ 1644 ابو دجانه مطبوعه دار الجيل بيروت 1992ء) یہ واقعہ بھی آپ کے متعلق روایت میں آتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار بلند کر کے ایک موقع پر فرمایا کہ کون ہے جو آج اس تلوار کا حق ادا کرے گا تو حضرت ابو دجانہ انصاری ہی آگے بڑھے تھے اور کہا تھا کہ میں اس بات کا عہد کرتا ہوں کہ اس تلوار کا حق ادا کروں گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا یہ جذبہ دیکھ کر ان کو تلوار دے دی۔پھر انہوں نے دوبارہ جرات کر کے پوچھا کہ یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس تلوار کا حق ادا کس طرح ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تلوار کسی مسلمان کا خون نہیں بہائے گی۔دوسرے اس سے کوئی دشمن کا فر بیچ کر نہیں جائے گا۔(صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابه باب من فضل ابودجانه۔۔۔الخ حديث 6353) (کنز العمال جلد 4 صفحہ 339 حدیث 10792 مطبوعه موسسة الرسالة بيروت 1985ء) دشمن کافر ، وہ کا فرجو دشمنی کرنے والے ہیں، جو اسلام کے خلاف جنگ کرنے والے ہیں یہ ان کے خلاف استعمال کرنی ہے۔آپ یہ تلوار لے کر بڑے فخر سے اور اکڑ کر میدان جہاد میں آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عام حالات میں تو اللہ تعالیٰ کو بڑائی کا اس قسم کا اظہار جو ہے پسند نہیں ہے۔لیکن آج میدان جنگ میں ابو دجانہ کی اکڑ کر چلنے کی جو ادا ہے یہ اللہ تعالیٰ کو بہت پسند آئی ہے۔(اسد الغابہ جلد 6 صفحہ 93ابو دجانة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) جنگ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ کرتے ہوئے آپ نے شہادت پائی۔انہوں نے بڑی بہادری سے قلعہ کا دروازہ کھولنے کے لئے (وہ قلعہ کے اندر بند ہو گیا تھا اور دروازہ بند کر لیا تھا) ایک تدبیر کی اور اپنے ساتھیوں کو کہا کہ مجھے دیوار سے اندر پھینک دو۔بڑی اونچی فصیل تھی۔اس طرح جب ان کو پھینکا گیا تو گرنے سے ان کی ٹانگ بھی ٹوٹ گئی لیکن اس کے باوجود بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے قلعہ کا دروازہ کھول دیا اور مسلمان اندر داخل ہو گئے۔حیرت انگیز جرآت اور مردانگی کا اظہار تھا جو انہوں نے کیا۔لیکن بہر حال اس حالت میں لڑتے ہوئے وہ شہید ہوئے۔(اسد الغابه جلد 2 صفحہ 551 سماك بن خرشة مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) ایک دفعہ بیماری میں اپنے ساتھی کو کہنے لگے کہ شاید میرے دو عمل اللہ تعالیٰ قبول کر لے۔ایک یہ کہ