خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 4 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 4

خطبات مسرور جلد 16 4 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 جنوری 2018 کیا ہے ان کی قربانیوں کا ذکر کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتاہوں کہ ان میں سے نہایت ہی کم معاش والے جیسے میاں جمال الدین اور خیر الدین اور امام الدین کشمیری میرے گاؤں سے قریب رہنے والے ہیں۔وہ تینوں غریب بھائی ہیں جو شاید تین آنے یا چار آنے روزانہ مزدوری کرتے ہیں۔لیکن سرگرمی سے ماہواری چندے میں شریک ہیں۔باقاعدگی سے چندہ دیتے ہیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ ان کے دوست میاں عبد العزیز پٹواری کے اخلاص سے بھی مجھے تعجب ہے۔باوجو د قلت معاش کے ایک دن سور و پیہ دے گئے کہ میں چاہتا ہوں کہ خدا کی راہ میں خرچ ہو جائے۔آپ فرماتے ہیں کہ وہ سور و پیہ شاید اس غریب نے کئی برسوں میں جمع کیا ہو گا مگر لہی جوش نے خدا کی رضا کا جوش دلا دیا۔(ماخوذ از ضیمه رساله انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 313-314) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے میں نے ایک دو واقعات بیان کئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کے ایک دو واقعات بیان کئے۔یہ جو مالی قربانیوں کا سلسلہ ہے یہ خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں یہ نظر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو اس قربانی کا وہ ادراک دیا ہے جو جیسا کہ میں نے کہا کہ دنیا میں کسی اور کو نہیں ہے اور اس کے بے شمار نمونے ہم ہر سال دیکھتے ہیں۔مالی قربانی کے ایمان افروز واقعات: آج کیونکہ حسب روایت جنوری کے پہلے خطبہ میں وقف جدید کے نئے سال کا اعلان ہوتا ہے اس لئے اس لحاظ سے میں وقف جدید میں مالی قربانی کرنے والوں کے بعض ایمان افروز واقعات بیان کروں گا۔کس طرح پھر اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کی وجہ سے انہیں اس دنیا میں بھی نواز دیتا ہے جو ان کے ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ بنتے ہیں۔مالی قربانی کس شوق سے لوگ کرتے ہیں اور اس نمونے پر عمل کرتے ہیں جو صحابہ کا تھا جس کا میں نے ذکر کیا کہ مالی تحریک پر صحابہ بازار جاتے تھے اور جو معمولی مزدوری ملتی تھی اس کو لا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔ایسے نمونے ہم میں آج بھی ملتے ہیں۔برکینا فاسو کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ود گو ریجن میں ہماری ایک جماعت کاری (Kari) ہے۔وہاں اس کے قریب حکومت زمین میں فائبر آپٹک (Fibre Optic) تار بچھا رہی ہے تو کاری جماعت کے بعض خدام نے ٹھیکیدار سے بات کی کہ وہ ان کو ایک کلومیٹر کی کھدائی کا کام دے دے۔چنانچہ کام ملنے پر جماعت کے خدام نے مل کر کھدائی کا کام کیا اور اس کے عوض ملنے والی ایک ملین فرانک سیفا کی ر تم جو تقریباً کوئی بارہ سو پچاس پاؤنڈ بنتے ہیں وقف جدید کے چندہ میں ادا کر دی۔پس یہ جذبہ ہے کہ جیسا میں نے کہا آج جماعت احمدیہ کے علاوہ اور کہیں نظر نہیں آتا۔اللہ تعالیٰ کس طرح نوجوانوں اور بچوں کے ایمانوں میں بھی چندے کی برکت سے مضبوطی