خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 120
خطبات مسرور جلد 16 120 11 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مارچ2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرموده مورخہ 16 مارچ 2018ء بمطابق 16 / امان 1397 ہجری بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: صحابہ کرام کا مقام ہر احمدی کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک موقع پر صحابہ رضوان اللہ علیہم کا مقام بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے روشن ثبوت ہیں۔اب کوئی شخص ان ثبوتوں کو ضائع کرتا ہے تو وہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو ضائع کرنا چاہتا ہے۔پس وہی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی قدر کر سکتا ہے جو صحابہ کرام کی قدر کرتا ہے۔" فرمایا کہ" جو صحابہ کرام کی قدر نہیں کرتا وہ ہر گز ہر گز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر نہیں کرتا۔وہ اس دعوی میں جھوٹا ہے اگر کہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں۔کیونکہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہو اور پھر صحابہ سے دشمنی۔" آپ نے فرمایا کہ " صحابہ کرائم کی وہ پاک جماعت تھی جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی الگ نہیں ہوئے اور وہ آپ کی راہ میں جان دینے سے بھی دریغ نہ کرتے تھے بلکہ دریغ نہیں کیا۔" فرماتے ہیں کہ " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں ایسے گم ہو گئے کہ وہ اس کے لئے ہر ایک (ملفوظات جلد 6 صفحہ 278) (ملفوظات جلد 6 صفحہ 277) تکلیف اور مصیبت اٹھانے کو ہر وقت تیار تھے۔" پس یہ صحابہ رضوان اللہ علیہم کا وہ مقام ہے جو ہر احمدی کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔جب ہم صحابہ کی سیرت کے بارے میں پڑھتے ہیں اور ان کے عملی نمونوں کے بارے میں علم حاصل کرتے ہیں تب ہی ان کا اہم مقام ابھر کر سامنے آتا ہے اور یہ جو مقام ہے یہ ہمیں اس بات کی طرف توجہ دلانے والا ہونا چاہئے کہ ان کی سیرت، ان کا اُسوہ، ان کے کام، ان کی اطاعت، ان کی عبادت کے معیار ہمارے لئے نمونہ ہیں اور ہم ان کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی کوشش کریں۔اس وقت میں بعض صحابہ کے کچھ واقعات بیان کروں گا۔ایک صحابی ابودجانہ انصاری تھے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ ہجرت سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔مدینہ کے رہنے والے تھے۔ان کو بھی یہ اعزاز حاصل تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے