خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 119
خطبات مسرور جلد 16 119 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 مارچ 2018 حضرت عمر کی اجازت سے آپ لوگوں کو قرآن کریم کا علم سکھایا کرتے تھے۔تفسیر بتایا کرتے تھے۔(صحیح البخاری کتاب صلاة التراويح باب فضل م قام رمضان حدیث 2010) من (ملفوظات جلد 2 صفحہ 52) تو یہ تھے وہ صحابہ جو ترقی کرتے کرتے اپنے انتہائی مقام کو پہنچے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ " چونکہ ترقی تدریجا ہوتی ہے اس لئے صحابہ کی ترقیاں بھی تدریجی طور پر ہوئی تھیں۔فرماتے ہیں کہ " آپ صحابہ کو دیکھ کر یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو دیکھ کر " چاہتے تھے کہ پوری ترقیات پر پہنچیں۔لیکن یہ عروج ایک وقت پر مقدر تھا۔" یعنی تدریجی ہوتا ہے " آخر صحابہ نے وہ پایا جو دنیا نے بھی نہ پایا تھا اور وہ دیکھا جو کسی نے نہ دیکھا تھا۔" حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک موقع پر صحابہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ " صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ کو اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ بڑے سیدھے سادے تھے جیسے کہ ایک بر تن قلعی کروا کر صاف اور ستھر اہو جاتا ہے۔ایسے ہی ان لوگوں کے دل تھے جو کلام الہی کے انوار سے روشن اور کدورت نفسانی کے زنگ سے بالکل صاف تھے۔گویاقد أفلح من زكهَا (الشمس: 10) کے سچے مصداق تھے۔"(ملفوظات جلد 6 صفحہ 15) پھر آپ فرماتے ہیں کہ " صحابہ نے اس قدر صدق دکھایا اور انہوں نے نہ صرف بُت پرستی اور مخلوق پرستی سے ہی منہ موڑا نہ صرف بت پرستی سے اور مخلوق پرستی سے یعنی لوگوں کو پوجنے سے اور لوگوں کی خوش آمدیں کرنا یا ان کی منتیں کرنا یہ بھی پوجنا ہی ہوتا ہے۔بلکہ در حقیقت ان کے اندر سے دنیا کی طلب ہی مسلوب ہو گئی اور وہ خدا کو دیکھنے لگ گئے۔وہ نہایت سرگرمی سے خدا تعالیٰ کی راہ میں ایسے فدا تھے کہ گویا ہر ایک ان میں سے ابراہیم تھا۔" ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 137) پھر فرمایا کہ " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک جسم کی طرح ہیں اور " آپ کے صحابہ کرام آپ کے اعضاء ہیں۔" (ملفوظات جلد 6 صفحہ 279) اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح رنگ میں صحابہ کے مقام کو بھی پہچانے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے نمونوں پر چلتے ہوئے اپنے اخلاص و وفا کو بھی بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 30 مارچ 2018ء تا05 اپریل 2018ء جلد 25 شمارہ 13 صفحہ 05 تا08) (08051325201805-2018