خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 118
خطبات مسرور جلد 16 118 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 مارچ 2018 ہے۔چنانچہ انہوں نے بت کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر تم سچے خدا ہوتے تو یوں کہتے کے گلے میں نہ پڑے ہوئے ہوتے۔پس میں بلند و برتر اللہ کی تعریف کرتا ہوں جو رزق عطا کرنے والا اور انصاف کرنے والا ہے۔کہتے ہیں کہ یہ انصار میں سب سے آخر میں اسلام قبول کرنے والے عمرو بن جموح ہی تھے۔(اسد الغابه جلد 7 صفحہ 688 مترجم مطبوعه المیزان ناشرون و تاجران کتب لاہور ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے صحابہ سے محبت کا جو انداز تھا اور پھر جس طرح آپ کی قوت قدسی سے اللہ تعالیٰ سے ان صحابہ کا تعلق پیدا ہوا اور پھر خدا تعالیٰ بھی بعض دفعہ ان صحابہ کو براہ راست نواز تا تھا یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط سے ان کو نوازتا تھا۔اس کا ذکر بھی صحابہ کے مقام ومر تنبہ کا پتا دیتا ہے۔حضرت ابی بن کعب کا تعلق باللہ کا بھی ایک خاص مقام تھا۔بخاری میں بھی یہ روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تجھے قرآن پڑھ کر سناؤں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمار ہے اپنے صحابی کو کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ کہا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں۔حضرت ابی بن کعب حیرانی سے پوچھنے لگے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لے کر فرمایا ہے۔اس خد ا نے جو سارے جہان کا مالک ہے میر انام لے کر کہا ہے کہ مجھے قرآن سنایا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں تمہارا نام لے کر کہا ہے۔اس پر ابی بن کعب شدت جذبات سے رونے لگے۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا کی سورۃ پڑھ کر سنائی۔یعنی سورة البينة (صحيح البخارى كتاب تفسير القرآن باب كلا لئن لم ينته۔۔۔الخ حديث 4960-4961) جب کسی نے ایک دفعہ بعد میں ابی بن کعب سے پوچھا کہ آپ تو یہ بات سن کر بہت خوش ہوئے ہوں گے۔تو انہوں نے جواب دیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کو دیکھ کر اور یاد کر کے خوش ہوا کر و تو میں خوش کیوں نہ ہوتا۔(اسد الغابه مترجم جلد 1 صفحہ 111 ابی بن کعب مطبوعہ المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور ) حضرت ابی بن کعب فہم قرآن بھی بہت رکھتے تھے۔ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا۔( یہ دو تین ہفتے پہلے بھی میں ایک خطبہ کے دوران بیان کر چکا ہوں ) کہ قرآن کریم کی کون سی آیت ایسی ہے جسے سب سے عظیم کہا جائے؟ تو انہوں نے پہلے تو یہی کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر عرض کی کہ آیتہ الکرسی ایسی ہے جسے عظیم کہنا چاہئے۔آیتہ الکرسی کے ضمن میں میں نے یہ روایت بھی بیان کی تھی۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر بڑی خوشنودی کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ اے ابی! اللہ تعالیٰ تیرا اعلم مبارک کرے۔واقعی آیت الکرسی ہی قرآن کریم کی عظیم آیت ہے۔(سنن ابو داؤد کتاب الوتر باب ما جاء في أية الكرسي حديث 1460) ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے سال ان کے ساتھ سارے قرآن کا دور کیا۔(کنز العمال جلد 13 صفحہ 266 حدیث 36779 مطبوعه مؤسسة الرسالة بيروت 1985ء)