خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 117
خطبات مسرور جلد 16 117 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 مارچ 2018 انہوں نے " یعنی صحابہ کرام نے " بسر کی اس کی نظیر کہیں نہیں پائی جاتی۔" فرماتے ہیں کہ "صحابہ کرام کا گر وہ عجیب گروہ قابل قدر اور قابل پیر وی گر وہ تھا۔ان کے دل یقین سے بھر گئے ہوئے تھے۔جب یقین ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ اؤل مال وغیرہ دینے کو جی چاہتا ہے۔پھر جب بڑھ جاتا ہے تو صاحب یقین خدا کی خاطر جان دینے کو تیار ہو جاتا ہے۔" (ملفوظات جلد 5 صفحہ 42) یہ یقین بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کی وجہ سے ہر وقت بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔ان صحابہ کے عام روز کے معاملات بھی عشق رسول کے عجیب نظارے دکھاتے ہیں۔ان کی کوشش ہوتی تھی کہ کس طرح کوئی موقع ملے اور ہم اپنی محبت کا اظہار کریں۔حضرت عبد اللہ بن عمر د کے بارے میں آتا ہے کہ وہ ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ کس طرح عام حالات میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و وفا کا اظہار کریں۔روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ اپنے بیٹے حضرت جابر کے ہاتھ گھر میں پکی ہوئی کوئی میٹھی چیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوائی۔جب وہ واپس آئے تو بیٹے سے پوچھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ ارشاد فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جابر گوشت لائے ہو۔اس پر حضرت عبد اللہ بن عمرو نے کہا کہ میرے آقا کو گوشت کی خواہش ہے۔اسی وقت گھر کی ایک بکری ذبح کی اور پھر گوشت بھون کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خاندان کو بھی دعا سے نوازا۔(الجامع لشعب الايمان جلد 8 صفحہ 62-63 حديث 5503 مطبوعه مكتبة الرشد ناشرون رياض 2003ء) صحابہ کو شروع میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی تبلیغ کرنے میں بڑی دقتیں پیش آتی تھیں۔کہیں بیٹا مسلمان ہوا اور باپ نہیں تو مشکلات ہیں۔کہیں کوئی اور کمزور رشتہ دار مرد یا عورت مسلمان ہوا تو دوسرے بڑے رشتہ دار تنگ کر رہے ہیں یا وہ ناپسندیدگی کا اظہار کرتے تھے۔حضرت عمرو بن جموح سے پہلے ان کے بیٹے نے بیعت کر لی تھی۔باپ مشرک تھا۔باپ کو تبلیغ کرنے کے لئے جب اور کوئی رستہ نہیں دیکھا، وہ مانتے نہیں تھے تو بیٹے نے یہ راستہ نکالا کہ اپنے باپ کا وہ بُبت جو گھر میں بڑا سجا کر رکھا گیا تھا اسے رات کو اٹھا کر کوڑے کے گڑھے میں پھینک دیا۔عمرو بن جموح دوبارہ تلاش کر کے اپنے گھر میں اس کو لے آئے اور بڑے غصہ سے کہا کہ اگر مجھے پتا چل جائے کہ کس نے میرے بت کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے تو میں اسے بڑی عبرتناک سزا دوں۔اگلے دن پھر بیٹا اپنے باپ کے بت کے ساتھ وہی سلوک کرتا اور کسی گڑھے میں پڑا ہو اوہ بت ملتا۔آخر ایک دن انہوں نے یعنی عمرو نے اس بت کو خوب صاف کیا اور سجایا اور ساتھ اپنی تلوار رکھ دی اور اس بت کو کہا کہ مجھے نہیں پتا لگتا کہ کون تمہارے ساتھ یہ حرکتیں کر رہا ہے۔لیکن اب میں تلوار بھی تمہارے ساتھ رکھ رہا ہوں اب اپنی حفاظت تم خود کر لینا۔اگلے دن جب دیکھا تو بت پھر غائب تھا۔تلاش کرنے پر ایک گند کے ڈھیر پر ایک مردہ کتے کے گلے میں بندھا ہوا ملا۔عمرو یہ دیکھ کر سوچ میں پڑ گئے کہ وہ بت جسے میں نے خد ابنار کھا ہے اس میں تو اتنی ہمت بھی نہیں ہے کہ تلوار پاس ہونے کے باوجود اپنا دفاع کر سکے تو اس نے میری حفاظت کیا کرنی