خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 116
116 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 مارچ 2018 خطبات مسرور جلد 16 لے لیں۔وہ اخلاص اور وفا اور خدا تعالیٰ کی خاطر جان کے نذرانے پیش کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔حضرت ابو طلحہ ایک انصاری صحابی تھے جو تیر اندازی میں مشہور تھے۔احد کی جنگ میں تیر اندازی کرتے ہوئے انہوں نے بڑے جو ہر دکھائے۔(صحیح البخاری کتاب المناقب باب مناقب ابی طلحہ انصاری حدیث 3811)،(صحیح البخاری کتاب المغازى باب اذ همت طائتفان - الخ حدیث 4064) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ابو طلحہ کے آگے تیر ڈال دو۔کیونکہ وہ بڑی تیزی سے تیر استعمال کرتے تھے اور ان کے یہ تیر بڑے نشانوں پر لگتے تھے۔ان کو بھی اُحد کی جنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ڈھال بن کر کھڑے ہونے کی توفیق ملی۔یہ انصاری تھے۔حضرت طلحہ نے تو اپنا ہاتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کے سامنے کیا ہوا تھا۔اور ابو طلحہ کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو کر شجاعت اور بہادری کے جوہر دکھانے کا موقع ملا۔(صحيح البخاري كتاب المناقب باب مناقب ابی طلحہ انصاری حدیث 3811) بے خوف اور بے دھڑک خطرناک ترین جگہوں پر کھڑے ہونے کو جنگ کے دوران ترجیح دیتے تھے۔اس لئے کہ دشمن جو اسلام کو ختم کرنا چاہتا ہے اس کے ساتھ لڑیں۔اس لئے کہ دنیا میں امن اور سلامتی قائم کر سکوں جیسا کہ میں نے کہا ان لوگوں نے ظلم کرنے کے لئے جنگیں نہیں کیں۔بلکہ دشمن نے جب حملہ کیا تو پھر بزدلی نہیں دکھائی۔بلکہ بہادری اور جرات کے جوہر دکھائے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں استعمال کیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ "خدا تعالیٰ" کی طرف سے جو معلوم ہوتا ہے وہ ہو کر ہی رہتا ہے۔اسباب کیا شئے ہے؟ کچھ بھی نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری راہ میں جاؤ گے تو مُر عَمَّا كَثِيرًا (النساء: 101) پاؤ گے۔صحت نیت سے جو قدم اٹھاتا ہے۔خدا اس کے ساتھ ہوتا ہے بلکہ انسان اگر بیمار ہو تو اس کی بیماری دور ہو جاتی ہے۔" فرمایا کہ " صحابہ کی نظیر دیکھ لو۔دراصل صحابہ کرام کے نمونے ایسے ہیں کہ گل انبیاء کی نظیر ہیں۔خدا کو تو عمل ہی پسند ہیں۔انہوں نے بکریوں کی طرح اپنی جانیں دیں اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے نبوت کی ایک ہیکل آدم علیہ السلام سے چلی آتی تھی نبوت کی ایک شکل ہے، ایک عظمت ہے جس کو ظاہر صورت میں بتایا جاتا ہے۔ہمارے مذہب کی تاریخ میں ہمیں حضرت آدم علیہ السلام سے چلی آتی نظر آتی ہے۔فرماتے ہیں کہ "مگر صحابہ کرام نے چپکا کر دکھلا دی۔" صرف اس کی علمی حیثیت نہیں بتائی بلکہ عمل سے اس کو چمکا کر دکھلا دیا اور بتلادیا کہ صدق اور وفا اسے کہتے ہیں۔" آپ فرماتے ہیں " حضرت عیسی کا تو حال ہی نہ پوچھو۔موسیٰ کو کسی نے فروخت نہ کیا۔مگر عیسی کو ان کے حواریوں نے تیس روپے لے کر فروخت کر دیا۔قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ حواریوں کو عیسی علیہ السلام کی صداقت پر شک تھا جبھی تو مائدہ مانگا اور کہا وَنَعْلَمَ أَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا (المائدة: 114) تاکہ تیر اسچا اور جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول مائدہ سے پیشتر ان کی حالت نعلم کی نہ تھی۔پھر جیسی بے آرامی کی زندگی