خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 115 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 115

خطبات مسرور جلد 16 115 فرمودہ مورخہ 09 مارچ2018 ہو۔پہلی بات اور پہلا حکم یہی ہے کہ قرض اتارو۔حضرت عبد اللہ کی شہادت اور قربانی کو بھی کس طرح اللہ تعالیٰ نے نوازا۔اس کا ذکر یوں ملتا ہے کہ حضرت عبد اللہ کے بیٹے کو افسردہ دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تعزیت فرمانے کے بعد فرمایا کہ میں تمہیں ایک خوش کرنے والی بات بتاتا ہوں۔فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ کو شہادت کے بعد اپنے سامنے بٹھایا اور فرمایا کہ مجھ سے جو چاہو خواہش کرو میں تمہیں عطا کروں گا۔حضرت عبد اللہ نے اپنے رب سے عرض کیا کہ اے میرے خدا! میں نے حق بندگی تو ادا نہیں کیا۔تیرے سامنے خواہش کس منہ سے کروں۔حالانکہ آپ کے عبادتوں کے معیار تھے ، قربانیوں کے معیار تھے۔لیکن پھر بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے تیرا حق بندگی تو ادا نہیں کیا۔اور پھر کس منہ سے تیرے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کروں۔تیر ارحم اور فضل ہے جو عطا کر دے۔پھر عرض کیا کہ خواہش میری اگر پوچھتا ہے اے اللہ ! تو یہی خواہش ہے کہ مجھے تو پھر دنیا میں لوٹادے تاکہ میں پھر تیرے نبی کے ساتھ ہو کر دشمن کا مقابلہ کروں اور پھر شہید ہو کر آؤں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں یہ فیصلہ کر چکا ہوں جس کو ایک دفعہ موت دے دوں وہ دوبارہ دنیا میں لوٹایا نہیں جاتا۔(مجمع الزوائد جلد 9 صفحہ 389 حدیث 15757 کتاب المناقب باب في عبد الله بن عمرو مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) اس لئے یہ خواہش تو پوری نہیں ہو سکتی۔باقی انشاء اللہ اللہ چاہتا ہے کہ شہید کا جو مقام ہے وہ تو ملنا ہی ہے۔اسی طرح ایک اور صحابی حضرت عمرو بن جموح کے بارے میں ان کے جذبہ قربانی اور شہادت کا ذکر ملتا ہے کہ وہ اپنے پاؤں کی تکلیف کی وجہ سے لنگڑا کر چلتے تھے۔کافی تکلیف تھی۔اس وجہ سے بدر کی جنگ میں ان کے بیٹوں نے ان کے معذور ہونے کی وجہ سے انہیں شامل نہیں ہونے دیا۔جب اُحد کا موقع آیا اور دشمن نے حملہ کیا۔کافر لوگ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے۔تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ اب تم جو چاہو کر لو میں نے اب تمہاری بات نہیں ماننی اور اس میں ضرور شامل ہونا ہے۔چنانچہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے بیٹے میرے پاؤں کی تکلیف کی وجہ سے جنگ میں مجھے شامل ہونے سے روک رہے ہیں۔لیکن میں آپ کے ساتھ اس جہاد میں شامل ہو نا چاہتا ہوں۔اور عرض کیا کہ خدا کی قسم میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری دلی خواہش پوری کرے گا اور مجھے شہادت عطا فرمائے گا اور میں اپنے لنگڑے پاؤں کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤں گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ معذوری کی وجہ سے تم پر جہاد تو فرض نہیں بنتا۔لیکن اگر تمہاری یہی خواہش ہے، تم یہی خواہش رکھتے ہو تو پھر شامل ہو جاؤ۔اور بیٹوں کو بھی فرمایا کہ انہیں شامل ہونے دو۔چنانچہ حضرت عمر و جنگ میں شامل ہوئے اور یہ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے شہادت عطا کر اور مجھے ناکام و نامراد اپنے گھر کی طرف نہ لوٹانا اور پھر واقعہ ان کی یہ خواہش پوری بھی ہوئی اور وہ میدان اُحد میں شہید ہوئے۔(اسد الغابہ جلد 7 صفحہ 688-689 مترجم۔عمرو بن الجموح مطبوعہ المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور ) پس یہ لوگ ایمان میں بڑھے ہوئے تھے۔یقین میں بڑھے ہوئے تھے۔کسی بھی صحابی کے واقعہ کو