خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 114
خطبات مسرور جلد 16 114 فرمودہ مورخہ 09 مارچ2018 صحابی نے کہا تھا میں نے رب کعبہ کو پالیا۔جو انتہا تھی عشق کی وہاں میں پہنچ گیا۔فرماتے ہیں کہ اور مومن کو سخت سے سخت تکالیف بھی آسان ہی ہوتی ہیں۔سچ پوچھو تو مومن کی نشانی ہی یہی ہوتی ہے کہ وہ مقتول ہونے کے لئے تیار رہتا ہے۔اسی طرح اگر کسی شخص کو کہہ دیا جاوے کہ یا نصرانی ہو جایا قتل کر دیا جائے گا۔اس وقت دیکھنا چاہئے کہ اس کے نفس سے کیا آواز آتی ہے ؟ آیاوہ مرنے کے لئے سر رکھ دیتا ہے یا نصرانی ہونے کو ترجیح دیتا ہے۔اگر وہ مرنے کو ترجیح دیتا ہے تو وہ مومن حقیقی ہے ورنہ کا فر ہے۔غرض ان مصائب میں جو مومنوں پر آتے ہیں اندر ہی اندر ایک لذت ہوتی ہے۔بھلا سوچو تو سہی کہ اگر یہ مصائب لذت نہ ہوتے تو انبیاء علیہم السلام ان مصائب کا ایک دراز سلسلہ کیونکر گزارتے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 308-309) یہاں تو صحابہ کی جو مثالیں ہیں ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی نے ایک ایسی روح پھونک دی تھی کہ جاتے ہوئے بھی یہ کہتے تھے ، مرتے ہوئے یہ کہتے تھے جیسا کہ ہم نے سنا کہ کعبہ کے رب کی قسم ہم کامیاب ہو گئے۔ہم نے خدا کو پالیا۔لیکن یہ وہ لوگ تھے جو نیکیاں کرنے والے تھے۔جن پر جب ظلم کئے جاتے تھے تو اس ظلم کی خاطر قربانیاں دیتے تھے نہ کہ خود ظالم بن کر ظلم کرتے جس طرح کہ آج کل کے بعض گروہوں نے کام شروع کیا ہے اور پھر کہتے ہیں کہ ہم شہید ہو گئے یا شہید ہو جائیں گے تو جنت میں چلے جائیں گے۔یہ وہ لوگ نہیں تھے۔یہ لوگ ظلم کے خلاف جنگ کرنے والے تھے۔ظلم پھیلانے والے نہیں تھے۔پھر حضرت عبد اللہ بن عمرو ایک انصاری صحابی تھے جن کے بارے میں یوں بیان ہوا ہے کہ اُحد کی جنگ میں جاتے ہوئے انہوں نے اپنے بیٹے کو کہا کہ سب سے پہلے مجھے شہادت حاصل ہو گی۔شاید انہوں نے خواب دیکھی تھی یا اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا۔کہنے لگے کہ میری موت کے بعد تم اپنی بہنوں کا خیال رکھنا۔ان کی بیٹیاں تھیں۔اور ایک یہودی سے میں نے قرض لیا ہوا ہے۔وہ قرض میرے کھجور کے باغات میں سے ادا کر دینا جب اس کی آمد آئے گی۔(صحيح البخارى كتاب الجنائز باب هل يخرج الميت من القبر واللحد لعلة حديث 1351، كتاب المناقب باب علامات النبوة حديث 3580) (عمدة القاري شرح صحیح البخاری جلد 8 صفحہ 244 حدیث 1351 کتاب الجنائز باب هل يخرج الميت من القبر واللحد لعلة مطبوعة دار احياء التراث العربی بیروت 2003ء) یہ تھا اللہ تعالیٰ سے محبت اور تقویٰ، پاکیزگی اور حقوق کی ادائیگی کا معیار۔جنگ میں جارہے ہیں۔جان کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔کوئی فکر نہیں۔بلکہ اس بات کی خوشی ہے کہ میں شہید ہونے والوں میں سے پہلے شہید کی سعادت پانے والا ہوں یا پاؤں گا۔یہ خوف نہیں کہ میری جوان بیٹیاں ہیں ان کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں۔ان حقوق کی ادائیگی کے لئے ایک تو توکل علی اللہ ہے۔اللہ پر توکل کیا۔پھر بیٹے کو نصیحت کی کہ اب تم نے گھر کا بڑا بن کر ان فرائض کو پورا کرنا ہے اور بہنوں کا خیال رکھنا ہے۔اور پھر قرض کی ادائیگی کی بھی فکر ہے کہ یہودی سے قرض لیا ہوا ہے اس کا سامان بھی میں تمہیں نہیں کہتا کہ تم اپنی ذات سے کرو بلکہ انشاء اللہ تعالیٰ باغات کی آمد سے ادا ہو جائے گا۔تمہارے پہ بوجھ نہیں ڈال رہا۔ہاں ایک فرض سے تمہیں آگاہ کر رہا ہوں۔ایک اسلامی حکم سے تمہیں آگاہ کر رہا ہوں کہ قرض کی ادائیگی کرنی ضروری ہے اور قرض اتار کر پھر ہی تم میری جائیداد کے وارث بن سکتے