خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 113 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 113

113 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 مارچ 2018 خطبات مسرور جلد 16 شہید کر دیا سوائے ایک یادو کے جو بچے۔جب ان لوگوں کو ظالمانہ طور پر دھو کے سے شہید کیا جارہا تھا تو انہوں نے یہ دعا کی کہ اے اللہ ایک تو ہماری یہ قربانیاں قبول فرمالے اور ہماری اس حالت کی اطلاع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کر دے کیونکہ یہاں تو اطلاع پہنچانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جبرائیل نے ان صحابہ کا سلام پہنچایا اور وہاں کے حالات اور شہادت کی اطلاع دی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اطلاع دی کہ وہ سب شہید کر دیئے گئے ہیں۔ستر صحابہ تھے جیسا کہ میں نے کہا، اور ان سب کی شہادت کا آپ کو بڑا انتہائی صدمہ تھا۔آپ نے تیس دن تک ان قبائل کے خلاف دعا کی کہ اے اللہ ان میں سے جنہوں نے یہ ظلم کیا ہے خود ان کی پکڑ کر۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان شہادتوں کو بڑی عظیم شہادتیں قرار دیا ہے۔(صحيح البخاری کتاب المغازی باب غزوة الرجيع۔۔الخ حدیث 4091)(صحيح مسلم كتاب الامارة باب ثبوت الجنة للشهيد حديث 4917) ( تاريخ الخميس جلد اوّل صفحہ 452 سريه المنذر بن عمرو الى بئر المعونة مطبوعه موسسة شعبان بيروت)(مسند احمد بن حنبل جلد 4 صفحہ 355 حدیث 12429 مسند انس بن مالك مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس عشق و محبت اور دین کی خاطر عظیم الشان قربانی کا ذکر کرتے ہوئے ایک موقع پر فرماتے ہیں کہ محبت ایک ایسی شئے ہے کہ وہ سب کچھ کر دیتی ہے۔ایک شخص کسی پر عاشق ہو تا ہے تو معشوق کے لئے کیا کچھ نہیں کر گزرتا۔پھر دنیا والوں کی ایک مثال دی آپ نے کہ ایک عورت کسی پر عاشق تھی۔اس کو کھینچ کھینچ کر لاتے تھے اور طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے۔ماریں کھاتی تھی مگر وہ کہتی تھی کہ مجھے لذت ملتی ہے۔جبکہ جھوٹی محبتوں ، فسق و فجور کے رنگ میں جلوہ گر ہونے والے عشق میں مصائب اور مشکلات کے برداشت کرنے میں ایک لذت ملتی ہے۔آپ فرماتے ہیں دنیا داروں کا یہ حال ہے تو خیال کرو کہ وہ جو خدا تعالیٰ کا عاشق زار ہو، اس کے آستانہ اُلوہیت پر نثار ہونے کا خواہشمند ہو وہ مصائب اور مشکلات میں کس قدر لذت پاسکتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حالت دیکھو۔مکہ میں ان کو کیا کیا تکلیفیں پہنچیں۔بعض ان میں سے پکڑے گئے۔قسم قسم کی تکلیفوں اور عقوبتوں میں گرفتار ہوئے۔مرد تو مرد بعض مسلمان عورتوں پر اس قدر سختیاں کی گئیں کہ ان کے تصور سے بدن کانپ اٹھتا ہے۔اگر وہ مکہ والوں سے مل جاتے تو اس وقت بظاہر وہ ان کی بڑی عزت کرتے کیونکہ وہ ان کی برادری ہی تو تھے۔مگر وہ کیا چیز تھی جس نے ان کو مصائب اور مشکلات کے طوفان میں بھی حق پر قائم رکھا۔وہ وہی لذت اور سرور کا چشمہ تھا جو حق کے پیار کی وجہ سے ان کے سینوں سے پھوٹ نکلتا تھا۔پھر آپ اس واقعہ کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔ایک صحابی کی بابت لکھا ہے کہ جب اس کے ہاتھ کاٹے گئے تو اس نے کہا کہ میں وضو کرتا ہوں۔آخر لکھا ہے کہ سر کاٹو تو پھر کہا کہ سجدہ کرتا ہے۔کہتا ہو امر گیا۔اس وقت اس نے دعا کی کہ یا اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچا دے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مدینہ میں تھے۔جبرائیل علیہ السلام نے جاکر السلام علیکم کہا۔آپ نے علیکم السلام کہا اور اس واقعہ پر اطلاع ملی۔غرض اس لذت کے بعد جو خد اتعالیٰ میں ملتی ہے ایک کیڑے کی طرح چل کر مر جانا منظور ہوتا ہے جس طرح ان