خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 112
خطبات مسرور جلد 16 112 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 مارچ 2018 علیہ وسلم کی دعاؤں کے براہ راست حاصل کرنے والے بنے۔اور راتوں کو اٹھ کر وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے اور اس کی رحمتوں کو حاصل کرنے کے لئے پکارتے تھے۔حضرت عباد کو اپنی ایک خواب کی وجہ سے یہ یقین تھا کہ انہیں شہادت کا رتبہ حاصل ہو گا۔حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ حضرت عباد نے ایک دفعہ مجھے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آسمان پھٹا ہے اور میں اس میں داخل ہو گیا ہوں تو پھر وہ جڑ گیا ہے۔واپس اپنی اصلی حالت میں آگیا ہے۔اس خواب سے وہ کہتے تھے کہ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے شہادت کا رتبہ دے گا۔ان کی یہ خواب جنگ یمامہ میں پوری ہوئی اور بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے انہوں نے شہادت پائی۔لیکن جس دشمن سے لڑرہے تھے اس پر آپ کے دستے نے جس میں تمام انصار شامل تھے فتح پائی۔آپ تو شہید ہو گئے لیکن دشمن پر فتح پائی۔حضرت ابوسعید کہتے ہیں کہ جنگ کے بعد ان کا چہرہ تلوار کے زخموں کی وجہ سے پہچانا نہیں جاتا تھا۔ان کی نعش کو ان کے جسم کے ایک نشان کی وجہ سے پہچانا گیا۔(الطبقات الكبرى لابن سعد مترجم جلد 4 صفحہ 31-30 مطبوعہ نفیس اکیڈمی کراچی) پھر تاریخ ہمیں ایک اور صحابی کے متعلق بتاتی ہے جن کا نام حرام بن ملحان تھا۔یہ نوجوان نوجوانوں اور دوسروں کو قرآن سکھانے اور غریبوں اور اصحاب صفہ کی خدمت میں پیش پیش رہتے تھے۔جب بنی عامر کے ایک وفد نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہمیں تبلیغ کے لئے کچھ لوگ بھیجیں تاکہ ہمیں بھی اسلام کا پتہ چلے اور ہمارے لوگ اسلام میں داخل ہوں۔نیت ان کی اس وقت بھی خراب تھی لیکن بہر حال انہوں نے یہ درخواست کی۔یہ لوگ قابل اعتبار نہیں تھے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تم لوگوں سے خطرہ ہے کہ جس کو میں بھیجوں گا اسے شاید تمہارے لوگ نقصان پہنچائیں تو ان کے سردار نے کہا۔وہ ابھی مسلمان نہیں ہوا۔لیکن کہنے لگا کہ میں ذمہ داری لیتا ہوں۔میں ذمہ دار ہوں گا اور سارے میری امان میں ہوں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ایک وفد بنی عامر کی طرف بھیجا۔حرام بن ملحان کو امیر مقرر کیا۔جب یہ وفد وہاں پہنچا تو حضرت حرام بن ملحان کو شک ہوا کہ ضرور کوئی گڑ بڑ ہے۔ان کے طور کوئی صحیح نظر نہیں آرہے تھے۔دور سے پتا لگ رہا تھا کہ ان لوگوں کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔چنانچہ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ احتیاطی تدبیر کرنی چاہئے اور سب کو وہاں اکٹھے نہیں جانا چاہئے کیونکہ اگر انہوں نے گھیر لیا تو سب کو ایک ہی وقت میں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔اس لئے تم سب یہیں رہو اور میں اور ایک اور ساتھی جاتے ہیں۔اگر تو انہوں نے ہم سے صحیح سلوک کیا تو تم لوگ بھی آجانا اور اگر ہمیں نقصان پہنچایا تو پھر تم لوگ حالات کے مطابق فیصلہ کرنا کہ کیا کرنا ہے۔واپس جانا ہے یا ان سے لڑنا ہے یا وہیں رہنا ہے۔جب یہ حرام بن ملحان اور ان کے ساتھی ان لوگوں کے قریب گئے تو بنی عامر کے سردار نے ایک آدمی کو اشارہ کیا اور اس نے پیچھے سے حرام بن ملحان پر نیزے سے حملہ کیا۔ان کی گردن سے خون کا فوارہ نکلا۔انہوں نے اس خون کو اپنے ہاتھوں پر لیا اور کہا کہ رب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔اور بعد میں پھر ان کے دوسرے ساتھی کو بھی شہید کر دیا گیا اور پھر باقاعدہ حملہ کر کے باقی جو ستر لوگ تھے ، ان سب کو