خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 111 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 111

خطبات مسرور جلد 16 111 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 مارچ2018 آپ مجلس میں بیٹھے یہ باتیں فرمارہے تھے۔دوسری جگہ ایک اور روایت میں اس کے یہ الفاظ بھی ملتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ "زمینی گورنمنٹوں کے لئے جو ذرا سا کچھ گنواتا ہے ان کو اجر ملتا ہے۔" عام دنیا داری میں دیکھو تم کچھ دیتے ہو ، ان کی خاطر کچھ کرتے ہو تو اجر ملتا ہے۔فرمایا " تو جو خدا کے لئے گنوائے تو کیا اسے اجر نہ ملے گا؟۔" پھر آپ فرماتے ہیں اور وہ نہیں مرتے ہیں جب تک وہ اس سے کئی چند نہ پالیں جو انہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں دیا ہے۔خدا تعالیٰ کسی کا قرض اپنے ذمہ نہیں رکھتا ہے۔مگر افسوس یہ ہے کہ ان باتوں کو ماننے والے اور ان کی حقیقت پر اطلاع پانے والے بہت ہی کم لوگ ہیں۔" ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 398-399 مع حاشیہ) یہ صدق و وفا اور اخلاص و مروت دکھانے والوں کے نمونے ہمیں اس شان سے نظر آتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی نے نہ صرف ان کی محبتوں کے رخ بدل دیئے۔پہلے محبتوں کے رخ کسی اور طرف تھے پھر اور طرف کر دیئے۔دنیا سے خدا کی طرف کر دیئے۔بلکہ ان محبتوں کے پیمانوں کو وہ عروج عطا کر دیا، وہ بلندیاں دے دیں جس کی مثال پہلے دنیا میں نہیں ملتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کس خوبصورتی سے اس عروج اور بلندی کی مثال دی ہے کہ فرمایا کہ ان کے اس معیار محبت اور قربانی کی سابقہ انبیاء کی زندگی میں بھی مثال نہیں پائی جاتی۔اور جہاں تک نبیوں کے ماننے والوں کا سوال ہے تو ان کی شان کیا، ان کی حالت تو صحابہ کے مقابلہ میں بہت ہی گری ہوئی تھی۔یہ صحابہ اپنی تمام نفسانی خواہشات سے پاک تھے۔صاف دل ہو کر اور اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہو کر صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی رضا چاہنے کے لئے اپنی زندگیاں گزارنے والے تھے اور جب یہ حالت ہو تو پھر خدا تعالیٰ بھی نوازتا ہے اور بے انتہا نوازتا ہے اور ہم صحابہ کی زندگی میں یہ باتیں دیکھتے ہیں۔بعض صحابہ کے واقعات پیش کرتا ہوں کہ کس طرح انہوں نے اپنے نفسوں کو خد اتعالیٰ کے ماتحت کر لیا تھا۔کیا نمونے انہوں نے دکھائے۔حضرت عباد بن بشر ایک انصاری صحابی تھے۔عین جوانی میں تقریباً پینتالیس سال کی عمر میں ان کو شہادت نصیب ہوئی تھی۔(اسد الغابه في معرفة الصحابه جلد 3 صفحہ 46 عباد بن بشر دار الفكر بيروت 2003ء)، (الاصابه فى تميز الصحابه جلد 3 صفحہ 496 عباد بن بشر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2005ء) ان کی عبادت اور قرآن کریم کی تلاوت کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کے وقت جاگے تو مسجد سے قرآن کریم کی تلاوت کی آواز آرہی تھی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کے لئے بہت جلدی جاگا کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا یہ آواز عباد کی ہے ؟ حضرت عائشہ کہتی ہیں میں نے عرض کی کہ انہی کی آواز لگتی ہے۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دعا دی کہ اے اللہ عباد پر رحم کر۔(صحيح البخارى كتاب الشهادات باب شهادة الأعمى۔۔۔الخ حديث 2655) کتنے خوش نصیب تھے وہ لوگ جو قرآن کریم کی تلاوت میں اپنی راتیں گزار کر آنحضرت صلی اللہ