خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 3 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 3

خطبات مسرور جلد 16 3 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 جنوری 2018 آج اگر اُس زمانے کی اشرفی کا جو سونے کی اشرفی تھی قیمت کے لحاظ سے اندازہ لگائیں تو شاید گیارہ بارہ ملین پاؤنڈ بنیں گے۔ہمارا دیکھ رہا تھا ہمارے وقف جدید کا جو تمام دنیا کا بجٹ ہے وہ اس سے بھی زیادہ ہے۔تو صحابہ کا یہ حال تھا کہ جن کے پاس کچھ نہیں تھا انہوں نے بھی محنت کر کے چاہے چند پینی (penny) یا چند سینٹ (cent) دیئے ہوں ، چند روپے دیئے ہوں وہ دینے کی کوشش کی۔اور جن کے پاس تھا انہوں نے تنگدستی کی کچھ پر واہ نہیں کی اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں بے دریغ خرچ کیا۔مالی قربانی کیلئے جوش: پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں ہم دیکھتے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی قربانی کے قصے سنتے ہیں۔جب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا آپ نے بے انتہا قربانی دی۔اسی طرح حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب تھے جو حضرت ام ناصر کے والد تھے۔انہوں نے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے کے بارے میں سنا تو فوراً کہا کہ اتنے بڑے دعوے والا شخص جھوٹا نہیں ہو سکتا اور فوراً بیعت کر لی اور پھر مالی قربانیوں میں بھی پیش پیش رہے۔پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے۔سرکاری ملازم تھے۔بڑی کشائش تھی۔اچھی کمائی کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو اپنے بارہ حواریوں میں لکھا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ ان کی قربانیاں اس قدر بڑھی ہوئی تھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو یہ سند دی کہ آپ نے سلسلہ کے لئے اس قدر مالی قربانیاں کی ہیں کہ آئندہ قربانی کی ضرورت ہی نہیں۔بہر حال یہ لوگ قربانیاں کرتے تھے۔لیکن اس سند کے باوجود یہ نہیں کہ انہوں نے قربانیاں چھوڑ دیں۔قربانیاں کرتے چلے گئے۔جب گورداسپور کا مقدمہ چل رہا تھا تو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دوستوں میں یہ تحریک کی کہ اخراجات بڑھ رہے ہیں۔مقدمے کے بھی اخراجات ہیں۔خاص طور پر جو لنگر خانہ ہے اس کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وہاں قیام کی وجہ سے گورداسپور میں بھی لنگر چل رہا تھا۔اور قادیان میں بھی لنگر چل رہا تھا۔دونوں جگہ لنگر چل رہا تھا تو اس کے لئے جب آپ نے رقم کی تحریک کی تو اس پر خلیفہ رشید الدین صاحب جن کو اتفاق سے اسی دن تنخواہ ملی تھی جس دن ان کو اس تحریک کا پتا چلا۔چنانچہ انہوں نے اپنی تمام تنخواہ جو اس زمانے میں چار سو پچاس روپے تھی اور بہت بڑی رقم تھی۔آجکل کے لاکھوں کے برابر ہے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھجوادی۔ان کو ان کے کسی دوست نے کہا کہ اپنے گھر کی ضروریات کے لئے بھی کچھ رکھ لیتے تو انہوں نے کہا کہ خدا کا مسیح کہتا ہے کہ دین کے لئے ضرورت ہے تو پھر کس کے لئے رکھتا۔(ماخوذ از تقاریر جلسہ سالانہ 1926ء، انوار العلوم جلد 9 صفحہ 403) پس جب دین کے لئے ضرورت ہے تو دین کے لئے ہی سب کچھ جائے گا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑے پیار سے اپنے بعض غریب احمدیوں کا بھی ذکر