خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 110
خطبات مسرور جلد 16 110 10 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 مارچ2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 09 مارچ 2018ء بمطابق 09 / امان 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آنحضرت کے صحابہ کا عظیم الشان مقام: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی قربانیوں اور ان کے مقام و مرتبہ اور اللہ تعالیٰ کے ان پر انعامات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : " حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا سارا مال و متاع خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیا اور آپ کمبل پہن لیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس پر انہیں کیا دیا۔تمام عرب کا انہیں بادشاہ بنادیا اور اسی کے ہاتھ سے اسلام کو نئے سرے سے زندہ کیا اور مرتد عرب کو پھر فتح کر کے دکھا دیا اور وہ کچھ دیا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔" فرماتے ہیں " غرض ان لوگوں کا صدق و وفا اور اخلاص و مروّت ہر مسلمان کے لئے قابل اُسوہ ہے۔صحابہ کی زندگی ایک ایسی زندگی تھی کہ تمام نبیوں میں سے کسی نبی کی زندگی میں یہ مثال نہیں پائی جاتی۔۔۔" فرماتے ہیں کہ " اصل بات یہ ہے کہ جب تک انسان اپنی خواہشوں اور اغراض سے الگ ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور نہیں آتا ہے وہ کچھ حاصل نہیں کرتا بلکہ اپنا نقصان کرتا ہے۔لیکن جب وہ تمام نفسانی خواہشات اور اغراض سے الگ ہو جاوے اور خالی ہاتھ اور صافی قلب لے کر خدا تعالیٰ کے حضور جاوے تو خدا اس کو دیتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کی دستگیری کرتا ہے۔مگر شرط یہی ہے کہ انسان مرنے کو تیار ہو جاوے اور اس کی راہ میں ذلت اور موت کو خیر باد کہنے والا بن جاوے۔" فرمایا دیکھو د نیا ایک فانی چیز ہے۔" کوئی اس میں مستقل نہیں رہتا مگر اس کی لذت بھی اسی کو ملتی ہے جو اس کو خدا کے واسطے چھوڑتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کا مقرب ہو تا ہے خدا تعالیٰ دنیا میں اس کے لئے قبولیت پھیلا دیتا ہے۔یہ وہی قبولیت ہے جس کے لئے دنیا دار ہزاروں کوششیں کرتے ہیں کہ کسی طرح کوئی خطاب مل جاوے یا کسی عزت کی جگہ یا دربار میں کرسی ملے اور کرسی نشینوں میں نام لکھا جاوے۔غرض تمام دنیوی عزتیں اسی کو دی جاتی ہیں اور ہر دل میں اسی کی عظمت اور قبولیت ڈال دی جاتی ہے جو خدا تعالیٰ کے لئے سب کچھ چھوڑنے اور کھونے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔نہ صرف آمادہ بلکہ چھوڑ دیتے ہیں۔غرض یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے واسطے کھونے والوں کو سب کچھ دیا جاتا ہے۔"