خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 109 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 109

خطبات مسرور جلد 16 109 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مارچ2018 خطیر رقم وہاں مسجد کے لئے دی ہے۔اور پرائیویٹ سیکرٹری نے ان کو بتایا کہ اس پر حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے بڑا خوشنودی کا اظہار فرمایا۔اسی طرح وہاں کے مربی صاحب لکھتے ہیں کہ 2010ء میں جب دارالذکر میں اور ماڈل ٹاؤن میں 28 مئی کا واقعہ ہوا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اسی دن شام کو میں دفتر گیا تو دیکھا کہ وہاں کے سیکرٹری مال ایک رسید کاٹ رہے تھے اور میں دیکھ رہا تھا کہ صفر پہ صفر ڈال رہے ہیں۔میں نے ان سے پوچھا کہ آپ غلطی سے تو نہیں کر رہے۔تو انہوں نے کہا نہیں بلکہ ابھی شیخ صاحب سیدنا بلال فنڈ کے لئے ایک کروڑ روپے کی رقم دے کر گئے ہیں۔اسی طرح قرآن کریم کی اشاعت کے لئے انہوں نے بڑی خطیر رقمیں دیں۔جماعت کراچی کے بیشمار پراجیکٹ تھے ان کے لئے چندے دیئے اور انہوں نے ہمیشہ بڑی سادگی سے زندگی گزاری۔ان کے ظاہری رکھ رکھاؤ سے لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ شخص دو فیکٹریوں کا مالک اور بڑا امیر آدمی ہے کیونکہ جو کمائی ہوتی تھی اپنے اخراجات کے لئے اور گھر کے اخراجات کے لئے رکھ کے باقی جماعت کو دے دیا کرتے تھے اور آخر میں بھی یہی وصیت کر کے گئے کہ یہ جو میری جائیداد ہے یہ جماعت کی ہو گی۔اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے۔درجات بلند فرمائے۔اور ان کے نواسوں نواسی کو اور بچوں کو ، بیٹی کو بھی صبر و حوصلہ بھی عطا فرمائے اور ان کے نیک نمونوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔نمازوں کے بعد ان کا نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 23 مارچ 2018ء تا 29مارچ2018ء جلد 25 شمارہ 12 صفحہ 05تا09)