خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 108 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 108

خطبات مسرور جلد 16 108 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مارچ2018 کوشش کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ کے آگے جھک کر دعا سے کام لیتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اس کے حصول کے لئے مدد طلب کرنے والے ہوں۔نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ غائب پڑھاؤں گا جو مکرم شیخ عبد المجید صاحب ابن شیخ عبدالحمید صاحب حلقہ ڈیفنس سوسائٹی کراچی کا ہے۔15 فروری کو 88 سال کی عمر میں ان کی وفات ہو گئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔ان کے خاندان میں احمدیت ان کے دادا حضرت شیخ نور احمد صاحب جالندھر کے ذریعہ سے آئی تھی جن کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب انجام آتھم میں 313 صحابہ کی فہرست میں 242 نمبر پر شیخ نور احمد صاحب جالند هر حال ممباسہ کے نام سے کیا ہے۔انجام آتھم ،روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 328) یہ 1929ء میں جالندھر میں پیدا ہوئے۔تعلیم الاسلام کالج قادیان سے ایف ایس سی (FSC) کرنے کے بعد آپ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیمیکل انجنیئر نگ میں ایم ایس سی (MSC) کی اور کالج میں ٹاپ بھی کیا۔پھر 1951ء سے 1953ء تک یہاں یو کے کی سرے (Surrey) یونیورسٹی میں میٹالوجیکل انجنیئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔اور اس کے بعد پھر آپ کو کراچی میں جماعتی خدمات انجام دینے کی توفیق ملی۔سیکرٹری جائیداد ، صدر امداد کمیٹی، حلقے کے صدر تھے۔نائب امیر کراچی کے طور پر خدمت کی توفیق ملی۔مجلس تحریک جدید مرکزیہ کے ممبر تھے۔آپ کی اولاد میں ایک بیٹی ہیں سلمی طارق جو طارق سجاد صاحب کی اہلیہ ہیں اور دونو اسے اور ایک نواسی ہیں۔ان کے نواسے لکھتے ہیں کہ قادیان میں بزرگوں کی صحبت میں رہ کے بچپن سے ہی اللہ تعالیٰ سے ایک خاص تعلق تھا۔اور کہتے ہیں میٹرک کے امتحان میں انگریزی کا پرچہ اچھا نہیں ہوا تو یہ مسجد کی طرف آ رہے تھے تو راستے میں حضرت مولانا شیر علی صاحب ملے۔وہ مسجد سے نکل رہے تھے۔مولانا صاحب نے امتحان کا حال پوچھا۔انہوں نے کہا کہ پرچہ اچھا نہیں ہوا۔مولانا شیر علی صاحب نے ہاتھ اٹھا کر وہیں دعا کی اور ان کو کہا کہ آپ پاس ہو جائیں گے۔خوشخبری دی۔کہتے ہیں کہ اس کے بعد دعا ایسی قبول ہوئی کہ ہر امتحان میں میں پاس ہی ہوتا چلا گیا۔تنگی اور خوشی کے مختلف حالات ان پر آئے۔یہاں سے جانے کے بعد مختلف نوکریاں بھی انہوں نے کیں اور جماعتی مخالفت کی وجہ سے بھی یا افسران کے آپس کے کچھ غلط رویوں کی وجہ سے ان کو نوکریوں سے نکالا جاتا رہا۔آخر انہوں نے کاروبار شروع کیا اور کاروبار میں یہ عہد کیا کہ اپنے خرچ کے لئے کچھ تھوڑا سا رکھوں گا۔باقی جو کچھ ہو گا وہ جماعت کو پیش کر دیا کروں گا۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے تازندگی اس عہد کو جو اللہ تعالیٰ سے کیا تھا نبھایا۔انہوں نے بزنس کیا ہے۔کارخانے لگائے۔اس کا جو بھی منافع آتا اس سے بے انتہا انہوں نے جماعت پر خرچ کیا اور جماعت کو ہمیشہ چندہ دیتے رہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے جب ایم ٹی اے کا اجراء فرمایا تو اس وقت بھی انہوں نے فوری طور پر ایک کروڑ روپیہ وہاں ادا کر دیا۔اسی طرح رشیا میں ایک دفعہ مسجد بنانے کا خیال پیدا ہوا تھا تو اس وقت تحریک سے پہلے احمدیوں کا ایک رشین و فد یہاں آکے حضرت خلیفہ المسیح الرابع کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہاں باتیں ہو رہی تھیں تو اسی دوران میں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کو پرائیویٹ سیکرٹری نے بتایا کہ شیخ صاحب نے بغیر کسی تحریک کے یہ