خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 107 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 107

خطبات مسرور جلد 16 107 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مارچ2018 موجب ہوں۔" فرمایا کہ "میں جانتا ہوں کوئی آدمی ایسا نہیں ہو سکتا جو اس فعل کو پسند کرے۔لیکن جب وہ ناخلف بیٹا ایسا کرتا ہے تو پھر زبان خلق بند نہیں ہو سکتی۔لوگ اس کے باپ کی طرف نسبت کر کے کہیں گے کہ یہ فلاں شخص کا بیٹا فلاں بد کام کرتا ہے۔پس وہ ناخلف بیٹا خود ہی باپ کی بدنامی کا موجب ہوتا ہے۔اسی طرح پر جب کوئی خص ایک سلسلہ میں شامل ہوتا ہے اور اس سلسلہ کی عظمت اور عزت کا خیال نہیں رکھتا اور اس کے خلاف کرتا ہے تو وہ عند اللہ ماخوذ ہوتا ہے۔" اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آجائے گا کیونکہ وہ صرف اپنے آپ ہی کو ہلاکت میں نہیں ڈالتا بلکہ دوسروں کے لئے ایک برانمونہ ہو کر ان کو سعادت اور ہدایت کی راہ سے محروم رکھتا ہے۔" بد نمونہ جو لوگ دیکھیں گے تو ان کو پھر اس جماعت سے دُوری پید ا ہو جائے گی۔وہ قریب نہیں آئیں گے۔اور پھر اس سعادت سے، جماعت میں شامل ہونے کی جو برکات ہیں اس سے محروم رہ جائیں گے۔پس جہاں تک آپ لوگوں کی طاقت ہے خدا تعالیٰ سے مد دیا نگو اور اپنی پوری طاقت اور ہمت سے اپنی کمزوریوں کو دُور کرنے کی کوشش کرو۔جہاں عاجز آ جاؤ وہاں صدق اور یقین سے ہاتھ اٹھاؤ کیونکہ خشوع اور خضوع سے اٹھائے ہوئے ہاتھ جو صدق اور یقین کی تحریک سے اٹھتے ہیں خالی واپس نہیں ہوتے۔ہم تجربہ سے کہتے ہیں کہ ہماری ہزار بادعائیں قبول ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں۔" فرمایا کہ " یہ ایک یقینی بات ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے اندر اپنے ابنائے جنس کے لئے ہمدردی کا جوش نہیں پاتا وہ بخیل ہے۔"اگر دوسرے انسان کے لئے ہمدردی کا جوش نہیں تو پھر وہ بخیل اور کنجوس ہے۔" اگر میں ایک راہ دیکھوں جس میں بھلائی اور خیر ہے تو میرا فرض ہے کہ میں پکار پکار کر لوگوں کو بتلاؤں۔اس امر کی پرواہ نہیں ہونی چاہئے کہ کوئی اس پر عمل کرتا ہے یا نہیں۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 146-147) پھر آپ فرماتے ہیں کہ "جب تک انسان مجاہدہ نہ کرے گا، دعا سے کام نہ لے گا، وہ عمرہ جو دل میں پڑ جاتا ہے دُور نہیں ہو سکتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيْرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (الرعد: 12)۔یعنی خدا تعالیٰ ہر ایک قسم کی آفت اور بلا کو جو قوم پر آتی ہے دُور نہیں کرتا ہے جب تک خود قوم اس کو دُور کرنے کی کوشش نہ کرے۔ہمت نہ کرے۔شجاعت سے کام نہ لے تو کیونکر تبدیلی ہو۔یہ اللہ تعالیٰ کی ایک لا تبدیل سنت ہے جیسے فرمایا وَ لَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا (الاحزاب: 63)۔پس ہماری جماعت ہو یا کوئی ہو وہ تبدیل اخلاق اسی صورت میں کر سکتے ہیں جبکہ مجاہدہ اور دعا سے کام لیں ورنہ ممکن نہیں ہے۔" (ملفوظات جلد 1 صفحہ 137) اللہ تعالیٰ ہمیں اُسوہ رسول پر چلتے ہوئے اپنے اخلاق کو ہر لحاظ سے اور ہر موقع پر اور ہر جگہ اور ہر صورت میں بہتر سے بہتر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمارے اخلاق کے معیار اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہوں ، نہ کہ دنیا دکھاوے کے لئے۔مخلوق کی سچی ہمدردی ہمارے دلوں میں پیدا ہو۔تقویٰ کے معیار بلند کرنے والے ہم ہوں۔ہم نے زمانے کے امام کو مانا ہے تو ہماری سوچ ہر وقت یہ رہے کہ ہمارا کوئی عمل اسلام، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود علیہ السلام کی بدنامی کا باعث نہ بنے بلکہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کو ہم پھیلانے والے ہوں اور دنیا کو اس سے متاثر کرنے والے ہوں اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ہم اپنے اخلاق کے معیاروں کو بڑھانے کی ہر وقت