خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 106
خطبات مسرور جلد 16 106 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مارچ 2018 پھر آپ فرماتے ہیں کسی کو اخلاق کی کوئی قوت نہیں دی گئی مگر اس کو بہت سی نیکیوں کی توفیق ملی۔ترک اخلاق ہی بدی اور گناہ ہے۔" فرمایا کہ نیکیوں کی انسان کو توفیق ملتی ہے اور فرمایا کہ ترک اخلاق ہی بدی اور گناہ ہے۔جب اخلاق کو ترک کر دو گے تو یہ بدی اور گناہ بن جاتا ہے۔اور پھر اس سے نیکیوں کی یہ توفیق بھی ختم ہو جاتی ہے۔فرمایا ایک شخص جو مثلاً زنا کرتا ہے اس کو خبر نہیں کہ اس عورت کے خاوند کو کس قدر صدمہ عظیم پہنچتا ہے۔"کسی عورت کے ساتھ اگر زنا کیا ہے ، شادی شدہ تھی اب اگر یہ اُس تکلیف اور صدمے کو محسوس کر سکتا اور اس کو اخلاقی حصہ حاصل ہو تا تو ایسے فعل شنیع کا مرتکب نہ ہوتا۔اگر ایسے نابکار انسان کو یہ معلوم ہو جاتا کہ اس فعل بد کے ارتکاب سے نوع انسان کے لئے کیسے کیسے خطرناک نتائج پیدا ہوتے ہیں تو ہٹ جاتا۔" فرمایا کہ " ایک شخص جو چوری کرتا ہے کمبخت ظالم اتنا بھی تو نہیں کرتا کہ رات کے کھانے کے واسطے" کسی غریب آدمی کے گھر میں چوری کر لیتا ہے اس کے لئے کچھ ہی چھوڑ جائے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک غریب کی کئی سالوں کی محنت کو ملیا میٹ کر دیتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں " اب اگر ان حالتوں کو محسوس کرتا اور اخلاقی حالت سے اندھانہ ہو تا تو کیوں چوری کرتا۔آئے دن اخبارات میں دردناک موتوں کی خبریں پڑھنے میں آتی ہیں کہ فلاں بچہ زیور کے لالچ سے مارا گیا۔فلاں جگہ کسی عورت کو قتل کر ڈالا۔اب سوچ کر دیکھو کہ اگر اخلاقی حالت درست ہو تو ایسی مصیبتیں کیوں آئیں؟ ممکن ہے کہ اپنے جیسے انسان پر مصیبت آئے اور یہ محسوس نہ کرے۔" (ملفوظات جلد 2 صفحہ 77-78) اگر یہ اخلاق ہی نہ ہوں، احساس ہی نہ ہو، اللہ تعالیٰ کا خوف ہی نہ ہو تو تبھی یہ حالت پیدا ہوتی ہے۔نہیں تو " اگر اللہ تعالیٰ کا خوف ہو یا انسانیت انسان میں ہو تو کبھی اس قسم کی حرکتیں نہ کریں۔اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ "جو شخص اپنے ہمسایہ کو اپنے اخلاق میں تبدیلی دکھاتا ہے کہ پہلے کیا تھا اور اب کیا ہے وہ گویا ایک کرامت دکھاتا ہے۔اس کا اثر ہمسایہ پر بہت اعلیٰ درجہ کا پڑتا ہے۔ہماری جماعت پر اعتراض کرتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ کیا ترقی ہو گئی ہے۔لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہمیں نہیں پتا کہ جماعت میں کیا ترقی ہو گئی ہے " اور تہمت لگاتے ہیں کہ افتراء، غیظ و غضب میں مبتلا ہیں۔" یہ الزام بھی ہم پر لگاتے ہیں کہ غیظ و غضب میں بھی مبتلا ہیں اور افترا بھی کرتے ہیں۔" کیا یہ ان کے لئے باعث ندامت نہیں ہے کہ انسان عمدہ سمجھ کر اس سلسلہ میں آیا تھا۔ایسے لوگ جو اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں تو پھر ان کو شر مندہ ہونا چاہئے۔فرمایا کہ "جیسا کہ ایک رشید فرزند اپنے باپ کی نیک نامی ظاہر کرتا ہے کیونکہ بیعت کرنے والا فرزند کے حکم میں ہوتا ہے۔۔۔" اس لئے تم لوگ بھی جو بیعت میں آئے ہو تو لوگ جو الزام لگاتے ہیں کہ یہ ہوا یہ ہوا۔وہ الزامات تمہارے پہ سچ ثابت نہیں ہونے چاہئیں۔فرمایا " روحانی باپ آسمان پر لے جاتا جس طرح جسمانی باپ زمین پر لانے کا موجب ہوتا ہے اور ظاہری زندگی کا باعث بنتا ہے اسی طرح روحانی باپ آسمان پر لے جاتا ہے اور اس مرکز اصلی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔" فرمایا کہ " کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ کوئی بیٹا اپنے باپ کو بد نام کرے؟ طوائف کے ہاں جاوے؟ اور قمار بازی کرتا پھرے۔شراب پیوے یا اور ایسے افعال قبیحہ کا مر تکب ہو جو باپ کی بدنامی کا