خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 105
خطبات مسرور جلد 16 105 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مارچ2018 گھاس چر رہا ہے تو اپنے کھیت سے اگر باڑ نہیں لگی ہوئی تو دوسرے کھیت میں بھی چلا جائے گا۔اس کو تمیز ہی نہیں ہے۔تو فرمایا کہ ایسا ہی ہر ایک امر جو کھانے کے لحاظ سے ہو " وہ " نہیں کرتا۔۔۔" فرمایا کہ " یہ لوگ جو اخلاقی اصولوں کو توڑتے ہیں اور پرواہ نہیں کرتے کہ گویا انسان نہیں۔پاک پلید کا تو یہ حال " ہے کہ " عرب میں مردے کتے کھالیتے تھے۔" پھر آگے آپ نے مثال دی کہ اس زمانے میں بھی لوگ کھا لیتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں کہ " یتیموں کا مال کھانے میں کوئی تر ڈد و تامل نہیں۔جیسے یتیم کا گھاس گائے کے سامنے رکھ دیا جاوے، بلا تر ڈ دکھا لے گی یعنی کہ گائے جو ہے اس کے سامنے گھاس رکھ دو، چاہے وہ جائز طریقے سے آیا ہے یا ناجائز طریقے سے، تو گائے نے تو کھا لینا ہے۔اسی طرح بعض لوگ یتیموں کا مال جائز اور ناجائز طریقے سے کھا لیتے ہیں۔فرمایا ایسا ہی ان لوگوں کا حال ہے۔یہی معنی ہیں وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ (محمد: 13)۔ان کا ٹھکانہ دوزخ ہو گا۔"جب ناجائز طریقے سے کھاتے ہیں تو پھر ایسے انسانوں کا ٹھکانہ دوزخ بن جاتا ہے۔فرمایا کہ "غرض یاد رکھو کہ دو پہلو ہیں۔ایک عظمتِ الہی کا۔جو اس کے خلاف ہے ، وہ بھی اخلاق کے خلاف ہے۔اور دوسر اشفقت علی خلق اللہ کا۔پس جو نوع انسان کے خلاف ہو ، وہ بھی اخلاق کے برخلاف ہے۔اللہ کے حقوق ادا نہیں کرتے۔اس کی عظمت نہیں مانتے۔اس کی عبادت نہیں کرتے۔اس کی باتوں کو توجہ سے نہیں سنتے۔اس کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو یہ بھی اخلاق نہیں۔اور اگر لوگوں کے حق ادا نہیں کرتے۔ناجائز طریقے سے ان کے مال کھاتے ہو۔نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہو یا اور طریقے سے بد اخلاقی دکھاتے ہو تو یہ بھی اخلاق کے خلاف ہے۔آپ فرماتے ہیں " آہ ! بہت تھوڑے لوگ ہیں جو ان باتوں پر جو انسان کی زندگی کا اصل مقصد اور غرض ہیں غور کرتے ہیں۔" ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 78-79) پھر ایک برائی تکبر کی ہے جو نیکیوں سے محروم کر دیتی ہے بلکہ خد اتعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بنادیتی ہے۔آپ فرماتے ہیں "صوفی کہتے ہیں کہ انسان کے اندر اخلاق رذیلہ کے بہت سے جن ہیں۔"گھٹیا اخلاق کے بہت سے جن ہیں جو انسان کے اندر ہوتے ہیں۔اور جب یہ نکلنے لگتے ہیں تو نکلتے رہتے ہیں۔مگر سب سے آخری جن تکبر کا ہوتا ہے جو اس میں رہتا ہے اور خد اتعالیٰ کے فضل اور انسان کے بچے مجاہدہ اور دعاؤں سے نکلتا ہے۔" فرمایا کہ " بہت سے آدمی اپنے آپ کو خاکسار سمجھتے ہیں " بڑی عاجزی دکھاتے ہیں۔سمجھتے ہیں کہ ہم بہت عاجز ہیں "لیکن ان میں بھی کسی نہ کسی نوع کا تکبر ہو تا ہے۔اس لئے تکبر کی باریک در بار یک قسموں سے بچنا چاہئے۔بعض وقت یہ تکبر دولت سے پیدا ہو تا ہے۔دولتمند متکبر دوسروں کو کنگال سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کون ہے جو میر ا مقابلہ کرے۔بعض اوقات خاندان اور ذات کا تکبر ہو تا ہے۔سمجھتا ہے کہ میری ذات بڑی ہے اور یہ چھوٹی ذات کا ہے۔بعض وقت تکبر علم سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ایک شخص غلط بولتا ہے تو یہ جھٹ اس کا عیب پکڑتا ہے اور شور مچاتا ہے کہ اس کو تو ایک لفظ بھی صحیح بولنا نہیں آتا۔غرض مختلف ٹیمیں تکبر کی ہوتی ہیں اور یہ سب کی سب انسان کو نیکیوں سے محروم کر دیتی ہیں اور لوگوں کو نفع پہنچانے سے روک دیتی ہیں۔ان سب سے بچنا چاہئے۔" ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 402)