خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 104 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 104

خطبات مسرور جلد 16 104 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مارچ2018 بدی دوسری بدی کا موجب ہو جاتی ہے۔جیسے ایک چیز دوسری چیز کو جذب کرتی ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے یہ تجاذب کا مسئلہ۔" یہ جذب کرنے کا مسئلہ " ہر فعل میں رکھا ہوا ہے۔پس جب سائل سے نرمی کے ساتھ پیش آئے گا اور اس طرح پر اخلاقی صدقہ دے دے گا۔" سائل سے نرمی کے ساتھ جب تو پیش آئے گا اور اس طرح پر اخلاقی صدقہ دے دے گا تو قبض دُور ہو کر دوسری نیکی بھی کرلے گا۔" یعنی جو دل میں ایک روک پیدا ہو جاتی ہے وہ دُور ہو جائے گی اور پھر دوسری نیکیوں کی بھی توفیق ملے گی " اور اس کو کچھ دے بھی دے گا۔" ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 75-76) پھر ہمارے معاشرے میں عموماً والدین کے بارے میں یہ سوال ہوتا ہے۔والدین اگر احمدی نہیں یا مخالفت کر رہے ہیں تو ان کا احترام کس طرح آپ نے قائم فرمایا۔آپ نے شیخ عبد الرحمن صاحب قادیانی کو ان کے والد کے بارے میں دریافت فرماتے ہوئے نصیحت فرمائی کہ ان کے حق میں دعا کیا کرو۔ہر طرح اور حتی الوسع والدین کی دلجوئی کرنی چاہئے اور ان کو پہلے سے ہزار چند زیادہ اخلاق اور اپناپاکیزہ نمونہ دکھلا کر اسلام کی صداقت کا قائل کرو۔" کیونکہ وہ مسلمان نہیں تھے اس لئے ان کو اپنا نمونہ دکھاؤ تا کہ وہ اسلام کی سچائی کے قائل ہو جائیں۔اخلاقی نمونہ ایسا معجزہ ہے کہ جس کی دوسرے معجزے برابری نہیں کر سکتے۔سچے اسلام کا یہ معیار ہے کہ اس سے انسان اعلیٰ درجہ کے اخلاق پر ہو جاتا ہے اور وہ ایک ممیز شخص ہوتا ہے۔شاید خدا تعالیٰ تمہارے ذریعہ ان کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے۔اسلام والدین کی خدمت سے نہیں روکتا۔دنیوی امور میں جن سے دین کا حرج نہیں ہو تا ان کی ہر طرح سے پوری فرمانبرداری کرنی چاہئے۔دل و جان سے ان کی خدمت بجالاؤ۔" ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 175- حاشیہ نمبر 1) آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ اخلاق ہی ہیں جو انسان اور جانوروں میں فرق کرتے ہیں۔اس بات کو بیان فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ: " اول چار پا یہ کیفیت اور کمیت میں فرق نہیں کر سکتا اور جو کچھ آگے آتا ہے اور جس قدر آتا ہے کھاتا ہے۔جیسے کتا اس قدر کھاتا ہے کہ آخر قے کرتا ہے۔" کیا کیفیت ہونی چاہئے۔کس حالت میں ہونی چاہئے۔کس طرح ہونی چاہئے اور اس میں کوئی فرق نہیں کرتے۔کتے کی مثال دی کہ اس کو یہ نہیں پتا کتنا کھانا ہے۔وہ کھاتا ہے تو کھاتا چلا جاتا ہے اور آخر قے کر دیتا ہے۔یہاں ہم نے دیکھا ہے کہ بعض لوگوں کا یہی حال ہے۔لالچ ختم ہی نہیں ہوتی اور جائز اور ناجائز طریقے سے چاہے وہ کھانا ہو یا لوگوں کا مال ہو کھانے کی کوشش کرتے ہیں۔فرمایا کہ " دوسرا یہ کہ انعام حلال اور حرام میں تمیز نہیں کرتے۔ایک تو یہ ہے کہ ان کو یہ فرق نہیں پتا کہ کیسی حالت رہنی چاہئے۔کس طرح رہنی چاہئے۔روحانیت کیا کہتی ہے اور کس حد تک تمہیں اپنے جائز ذرائع سے کھانے اور کمانے کی اجازت دیتی ہے۔صرف یہی نہیں ہے کہ جیبیں بھرتے چلے جاؤ اور اپنے خزانے بھرتے چلے جاؤ بلکہ اس کا اندازہ ہونا چاہئے۔دوسری بات یہ ہے کہ جانور حلال اور حرام میں تمیز نہیں کرتا۔فرمایا کہ " ایک بیل مثلاً " بیل کی مثال ہے کبھی یہ تمیز نہیں کرتا کہ یہ ہمسایہ کا کھیت ہے اس میں نہ جاؤں۔" کھلا بیل ہے ، جانور ہے