خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 103
خطبات مسرور جلد 16 103 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مارچ2018 بڑے خوبصورت انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اخلاق دوسری نیکیوں کی کلید ہے۔ایک چابی ہے اس کی۔"جو لوگ اخلاق کی اصلاح نہیں کرتے وہ رفتہ رفتہ بے خیر ہو جاتے ہیں۔" ان سے پھر کوئی خیر نہیں ہوتی فائدہ نہیں پہنچتا۔فرمایا کہ "میر اتو یہ مذہب ہے کہ دنیا میں ہر ایک چیز کام آتی ہے۔زہر اور نجاست بھی کام آتی ہے۔اسٹر کنیا بھی کام آتا ہے۔اعصاب پر اپنا اثر ڈالتا ہے۔مگر انسان جو اخلاق فاضلہ کو حاصل کر کے نفع رساں ہستی نہیں بنتا۔" یہ زہر بھی کام آسکتے ہیں۔گند بھی کام آسکتا ہے لیکن اخلاق فاضلہ کو حاصل کرتا ہے۔اگر انسان ایسا نہیں کرتا اور لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچاتا تو فرمایا کہ ایسا ہو جاتا ہے کہ وہ کسی بھی کام نہیں آسکتا۔" پس انسان تبھی کام آسکتا ہے جب اس میں اعلیٰ اخلاق ہوں۔فرماتے ہیں کہ : " مر دار حیوان سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔کیونکہ اس کی تو کھال اور ہڈیاں بھی کام آجاتی ہیں۔اس کی تو کھال بھی کام نہیں آتی اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان بَلْ هُمْ أَضَلُّ (الاعراف: 180) کا مصداق ہو جاتا ہے۔انتہائی گری ہوئی چیز بن جاتا ہے۔پس یاد رکھو کہ اخلاق کی درستی بہت ضروری چیز ہے کیونکہ نیکیوں (ملفوظات جلد 2 صفحہ 76) کی ماں اخلاق ہی ہے۔" اگر اخلاق پیدا ہوں گے تو دوسری نیکیاں کرنے کی بھی توفیق ملے گی۔روز مرہ معاملات میں یہ اخلاق کس طرح ظاہر ہوتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ : ” بعض آدمیوں کی عادت ہوتی ہے کہ سائل کو دیکھ کے چڑ جاتے ہیں۔" کوئی سوالی آئے تو اس کو دیکھ کے چڑ جاتے ہیں۔کوئی ضرورت مند آئے تو اس کو دیکھ کر چڑ جاتے ہیں۔" اور کچھ مولویت کی رگ ہو تو اس کو بجائے کچھ دینے کے سوال کے مسائل سمجھاناشروع کر دیتے ہیں۔" مسائل بیان کرنے شروع کر دیتے ہیں بجائے اس کے کہ اس کو دیں۔مانگنے والا آیا ہے تو وہ اس سے علمی باتیں شروع کر دیں گے یا سوال کرنے کی برائیاں اور اچھائیاں بیان کرنی شروع کر دیں گے۔فرمایا اور اس پر اپنی مولویت کا رعب بٹھا کر بعض اوقات سخت سست بھی کہہ بیٹھتے ہیں۔افسوس ان لوگوں کو عقل نہیں اور سوچنے کا مادہ نہیں رکھتے جو ایک نیک دل اور سلیم الفطرت انسان کو ملتا ہے۔اتنا نہیں سوچتے کہ سائل اگر باوجود صحت کے سوال کرتا ہے تو وہ خود گناہ کرتا ہے۔اگر کوئی سوالی ایسا ہے جو صحت کے باوجود سوال کرنے آیا ہے تو اس کا گناہ اس کے سر ہے۔تمہارے پاس کچھ ہے ، مانگ رہا ہے تو اس کو دے دو۔" اس کو کچھ دینے میں تو گناہ لازم نہیں آتا۔بلکہ حدیث شریف میں لَوْ آتَاكَ رَاكِبًا کے الفاظ آئے ہیں۔یعنی خواہ سائل سوار ہو کر بھی آوے تو بھی کچھ دے دینا چاہئے اور قرآن شریف میں وَأَمَّا السَّابِلَ فَلَا تَنْهَرُ (الضحیٰ:11) کا ارشاد آیا ہے کہ سائل کو مت جھڑک۔" فرمایا کہ اس میں یہ کوئی صراحت نہیں کی گئی کہ فلاں قسم کے سائل کو مت جھڑک اور فلاں قسم کے سائل کو جھڑک۔پس یاد رکھو کہ سائل کو نہ جھڑ کو۔" سوالی، سوال کرنے والے کو نہ جھڑ کو " کیونکہ اس سے ایک قسم کی بد اخلاقی کا بیج بویا جاتا ہے۔اخلاق یہی چاہتا ہے کہ سائل پر جلد ہی ناراض نہ ہو۔یہ شیطان کی خواہش ہے کہ وہ اس طریق سے تم کو نیکی سے محروم رکھے اور بدی کا وارث بنادے۔" پھر آپ فرماتے ہیں: " غور کرو کہ ایک نیکی کرنے سے دوسری نیکی پیدا ہوتی ہے اور اسی طرح پر ایک