خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 102 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 102

خطبات مسرور جلد 16 102 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مارچ2018 ہے جس کا اثر کبھی زائل نہیں ہو تا بلکہ نفع دُور تک پہنچتا ہے۔مومن کو چاہئے کہ خلق اور خالق کے نزدیک اہل کرامت ہو جاوے۔بہت سے رند اور عیاش ایسے دیکھے گئے ہیں جو کسی خارق عادت نشان کے قائل نہیں ہوئے لیکن اخلاقی حالت کو دیکھ کر انہوں نے بھی سر جھکا لیا ہے اور بجز اقرار اور قائل ہونے کے دوسری راہ نہیں ملی۔بہت سے لوگوں کے سوانح میں اس امر کو پاؤ گے کہ انہوں نے اخلاقی کرامات ہی کو دیکھ کر دین حق کو قبول کر لیا۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 141-142) بظاہر عموماً د نیا دار بھی اخلاق دکھا رہے ہوتے ہیں۔لیکن جس بات کو اخلاق کا نام دیا جاتا ہے وہ حقیقت میں عموماً ایک دکھاوا ہوتا ہے اور صرف اپنے آپ کو اچھا ثابت کرنے کے لئے یہ کر رہے ہوتے ہیں جہاں اپنے ذاتی مفادات بھی نہ ہوں وہاں اپنے آپ کو اچھا ثابت کرتے ہیں۔دل میں کچھ اور ہوتا ہے۔یا پھر بعض دفعہ کسی بڑے افسر کے سامنے یا بڑے امیر آدمی کے سامنے اس طرح اظہار کرتے ہیں کہ بڑے اچھے اخلاق ہیں حالانکہ وہ مداہنت ہے۔ایسی چیز ہے جو کمزوری ہے اور خوف کے مارے یا بزدلی کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اسلام کی تعلیم یہ نہیں ہے کیونکہ یہ اسلام کے بچے اخلاق نہیں ہیں۔بلکہ اعلیٰ خُلق یہ ہے کہ دل سے اس بات کا اظہار ہو رہا ہو۔اگر ہمدردی ہے تو دل سے ہو۔اگر دوسری باتوں کا اظہار ہے تو دل سے ہو۔چنانچہ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ: " اخلاق دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو وہ ہیں جو آجکل کے نو تعلیم یافتہ پیش کرتے ہیں کہ ملاقات وغیرہ میں زبان سے چاپلوسی اور مداہنہ سے پیش آتے ہیں اور دلوں میں نفاق اور کینہ بھرا ہوا ہوتا ہے۔یہ اخلاق قرآن شریف کے خلاف ہیں۔دوسری قسم اخلاق کی یہ ہے کہ سچی ہمدردی کرے۔دل میں نفاق نہ ہو اور چاپلوسی اور مداہنہ وغیرہ سے کام نہ لے۔جیسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبى (النحل:91)۔تو یہ کامل طریق ہے۔" عدل کرو۔انصاف سے کام کرو۔جو حقیقت ہے اس کو بیان کرو۔پھر ایسی صورتیں پیدا ہوتی ہیں جہاں احسان کرنے کی ضرورت ہے وہاں احسان کرو۔پھر اس سے آگے بڑھو تو دوسروں سے اس طرح سلوک کرو ایسے اخلاق دکھاؤ جس طرح ایک ماں اپنے بچے سے کرتی ہے یا کوئی بہت قریبی رشتہ دار قریبی رشتے سے کرتا ہے۔تو فرمایا کہ یہ کامل طریق ہے اور ہر ایک کامل طریق اور ہدایت خدا کے کلام میں موجود ہے جو اس سے روگردانی کرتے ہیں وہ اور جگہ ہدایت نہیں پاسکتے۔اچھی تعلیم اپنی اثر اندازی کے لئے دل کی پاکیزگی چاہتی ہے۔جو لوگ اس سے دُور ہیں اگر عمیق نظر سے ان کو دیکھو گے تو ان میں ضرور گند نظر آئے گا۔"پس اس کے لئے دل کی پاکیزگی کی ضرورت ہے۔اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کے حکموں پر چلانے کی ضرورت ہے۔فرمایا کہ "زندگی کا اعتبار نہیں ہے۔نماز ، " اور " صدق وصفا میں ترقی کرو۔" ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 200) اپنی عبادتوں میں ترقی کرو۔اپنے سچائی کے معیار کو بڑھاؤ۔اپنی ہر بات میں سچائی پیدا کرو۔بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ نیکیاں کیا ہیں ؟ بعض سمجھتے ہیں کہ صرف ظاہری نمازیں اور عبادت ہی نیکی ہے یا معمولی اخلاق دکھا دیئے تو بڑی نیکی ہو گی اور دوسرے بہت سارے بنیادی اخلاق کی پر واہ نہیں کرتے۔اس پر