خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 101
خطبات مسرور جلد 16 101 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مارچ2018 (ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 132-133) ہے۔اور پھر آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان اخلاق کے بارے میں سب سے اکمل نمونہ اور نظیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے جو جمیع اخلاق میں کامل تھے اسی لئے آپ کی شان میں فرمایا۔اِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ - پس تکالیف کے زمانہ میں بھی آپ نے اخلاق دکھلائے اور صبر کا وہ مظاہرہ کیا کہ دنیا حیران ہو گئی اور تمام عرب کی حکومت ملی جیسا کہ فرمایا کہ میں نے تو تمام ظلم کرنے والوں کو معاف کر دیا۔پس اخلاق کے اعلیٰ معیار ہیں جو ہر حالت میں ایک حقیقی مسلمان کو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے کو ہمیشہ سامنے رکھنے چاہئیں اور دکھانے چاہئیں۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری کس طرح رہنمائی فرمائی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں فرماتے ہوئے یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ اعلیٰ اخلاق ایسے تھے جنہوں نے لوگوں کو اپنا گرویدہ کر لیا اور ایک اعجاز دکھایا۔پھر آپ ہمیں فرماتے ہیں کہ اگر تم اس سنت پر چلتے ہوئے اپنے اخلاق اچھے کر لو اور ہر خُلق کو موقع اور محل کے مطابق استعمال کرو تو تم بھی اعجاز دکھانے والے بن سکتے ہو۔آپ فرماتے ہیں "خوارق پر تو کسی نہ کسی رنگ میں لوگ عذرات پیش کر دیتے ہیں اور اس کو ٹالنا چاہتے ہیں۔لیکن اخلاقی حالت ایک ایسی کرامت ہے جس پر کوئی انگلی نہیں رکھ سکتا اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے بڑا اور قومی اعجاز اخلاق ہی کا دیا گیا۔جیسے فرمایا نَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ - " فرمایا کہ یوں تو آنحضرت صلعم کے ہر ایک قسم کے خوارق قوت ثبوت میں جملہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات سے بجائے خود بڑھے ہوئے ہیں۔مگر آپ کے اخلاقی اعجاز کا نمبر ان سب سے اول ہے جس کی نظیر دنیا کی تاریخ نہیں بتلا سکتی اور نہ پیش کر سکے گی۔" فرمایا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو اپنے اخلاق سیئہ کو چھوڑ کر " برے اخلاق کو چھوڑ کر " عادات ذمیمہ کو ترک کر کے خصائل حسنہ کو لیتا ہے۔" اچھی خصلتیں اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے۔" اس کے لئے وہی کرامت ہے۔تو یہ بہت بڑی کرامت ہے۔اگر اس طرح کر لو کہ برے اخلاق کو چھوڑ دو اور نیکیاں اپنے اندر پید اکر لو۔مثلاً اگر بہت ہی سخت تُند مزاج اور غصہ ور ان عادات بد کو چھوڑتا ہے اور حلم اور عفو کو اختیار کر تا ہے یا امساک کو چھوڑ کر سخاوت اور حسد کی بجائے ہمدردی حاصل کرتا ہے تو بیشک یہ کرامت ہے۔سخت مزاج آدمی ہے۔غصہ ور آدمی ہے۔یہ بری عادتیں ہیں انکو چھوڑ کر نرمی اور معاف کرنے کی صفت اختیار کرتا ہے یا کنجوسی کو چھوڑ کر سخاوت کرتا ہے، اپنے ہاتھ کو روکے رکھنے کی بجائے اور حسد کے بجائے ہمدردی کرتا ہے تو اگر ایسی تبدیلی پیدا کر لو تو یہ ایک کر امت پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نتیجے بھی دکھاتی ہے۔" اور ایسا ہی خودستائی اور خود پسندی کو چھوڑ کر جب انکساری اور فروتنی اختیار کرتا ہے تو یہ فروتنی ہی کرامت ہے۔" اپنے آپ کی تعریف کرنا یا اپنے آپ کو اظہار کرنایا تعریف کروانا ان باتوں کو چھوڑ کر عاجزی اختیار کرو تو یہ کرامت بن جائے گی۔فرمایا کہ " پس تم میں سے کون ہے جو نہیں چاہتا کہ کراماتی بن جاوے۔میں جانتا ہوں ہر ایک یہی چاہتا ہے۔تو بس یہ ایک مدامی اور زندہ کرامت ہے۔انسان اخلاقی حالت کو درست کرے کیونکہ یہ " ایک ایسی کرامت