خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 2 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 2

خطبات مسرور جلد 16 2 خطبہ جمعہ فرمودہ مور محد 05 جنوری 2018 پس جس کو ہم بظاہر خرچ سمجھ رہے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر خرچ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اصل میں خرچ نہیں ہے۔بلکہ میری رضا چاہنے کے لئے میرے کہے ہوئے مقاصد کے لئے جو خرج تم نے کیا وہ حقیقت میں خرچ نہیں بلکہ تمہارے اکاؤنٹ میں جمع ہو گیا ہے اور جب تمہیں اس کی ضرورت ہو گی اللہ تعالیٰ اسے واپس لوٹادے گا۔اسی طرح ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن حساب کتاب ختم ہونے تک انفاق فی سبیل اللہ کرنے والے اللہ کی راہ میں خرچ کئے ہوئے اپنے مال کے سائے میں رہیں گے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحه 895 حدیث 17466 مسند عقبة بن عامر مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) لیکن ساتھ ہی آپ نے ایک جگہ یہ بھی شرط لگائی ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو گندہ مال پسند نہیں ہے۔غلط طریق سے کمایا ہوا مال پسند نہیں ہے۔بلکہ پاک کمائی اور محنت سے کمایا ہو ا مال اگر اس کی راہ میں خرچ ہو گا تو قبول ہو گا۔(صحيح البخاري كتاب التوحید باب قول الله تعالى تعرج الملائكة۔۔۔الخ حديث 7430) پس اس بات کو ہمیں ہر وقت اپنے سامنے رکھنا چاہئے کہ ہمارا مال ہمیشہ پاک مال رہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کس طرح کوشش کر کے اور محنت کر کے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی مالی تحریک میں حصہ لینے کے لئے کماتے تھے اور چندے دیتے تھے۔صدقات دیتے تھے ، اس کا ایک روایت میں یوں ذکر ملتا ہے۔حضرت ابو مسعود انصاری کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی صدقے اور مالی قربانی کا ارشاد فرماتے تو ہم میں سے بعض بازار جاتے اور وہاں محنت مزدوری کرتے اور کسی کو اجرت کے طور پر اگر ایک مڈ بھی ملتا تو وہ اسے اس تحریک میں خرچ کرتا۔مڈ ایک پیمانہ ہے جس سے اناج تو لا یا ناپا جاتا ہے۔شاید کلو سے بھی کم وزن ہو یا اس کے برابر ہو۔لیکن بہر حال وہ صحابی کہتے ہیں کہ اس وقت جن کا یہ حال تھا کہ قربانی میں تھوڑا سا حصہ ڈالنے کے لئے بازار جاتے تھے اور کمائی کرتے تھے۔اب اللہ تعالیٰ نے انہیں اس دنیا میں جو نوازا ہے تو ان میں سے بعض کا یہ حال ہے کہ ایک ایک لاکھ درہم یاد ینار ان کے پاس ہیں۔(صحيح البخارى كتاب الزكاة باب اتقوا النار ولو بشق تمرة۔۔۔الخ حديث 1416) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ایک روایت آتی ہے کہ جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کے پاس اس کاروبار اور جائیداد کے علاوہ جو ان کی تھی چالیس ہزار اشرفی جمع شدہ تھی۔انہوں نے ارادہ کیا کہ یہ سب میں دین کے لئے خرچ کر دوں گا اور خرچ کرتے رہے اور ہجرت کے وقت ان کے پاس اس میں سے صرف پانچ سو اشرفی بچی تھی۔(خطبات ناصر جلد اول صفحہ 457) ( تاریخ وسیرت کی عام مروجہ کتب میں پانچ ہزار اشرفیوں کا ذکر ملتا ہے۔الطبقات الکبریٰ لا بن سعد جلد 3 صفحه 91 باب ذکر اسلام ابی بکر مطبوعه دار احیاء التراث العربی بیروت 1996ء از ریسرچ سیل)