خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 100 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 100

خطبات مسرور جلد 16 100 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 مارچ2018 مروت، غیرت، استقامت، عفت، زہادت، اعتدال، مواسات یعنی ہمدردی۔ایسا ہی شجاعت، سخاوت، عفو، صبر ، احسان، صدق، وفا وغیرہ۔جب یہ تمام طبعی حالتیں عقل اور تدبر کے مشورہ سے اپنے اپنے محل اور موقع پر ظاہر کی جائیں گی تو سب کا نام اخلاق ہو گا۔اور یہ تمام اخلاق در حقیقت انسان کی طبعی حالتیں اور طبیعی جذبات ہیں اور صرف اس وقت اخلاق کے نام سے موسوم ہوتے ہیں کہ جب محل اور موقع کے لحاظ سے بالا رادہ ان کو استعمال کیا جائے۔" اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 333) ایک عاد تا نہیں بلکہ ہر خلق جو ہے اس کو اس لحاظ سے استعمال کیا جائے کہ اس کے نیک نتیجے پیدا ہوں۔بعض دفعہ سزا دینی پڑتی ہے تو سزا اس ارادے سے کہ نیک نتائج پیدا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اعلیٰ اخلاق دکھانے کی مختلف حالتوں کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا کہ : اعلیٰ اخلاق کا دو حالتوں میں پتا لگتا ہے۔ابتلاؤں میں بھی اور تنگی کی حالت میں بھی، ابتلاؤں اور تنگی کی حالت میں اور انعام اور کشائش کی حالت میں۔ابتلاء اور تنگی میں جو صبر اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کا نمونہ دکھائے وہ اعلیٰ اخلاق کا مالک ہے اور انعام اور حکومت میں جو عاجزی اور انصاف قائم کرے وہ اعلیٰ اخلاق والا کہلا سکتا ہے اور یہ دونوں حالتیں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں روشن ہو کر ظاہر ہوتی ہیں۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ کس طرح فتح مکہ کے موقع پر اپنے جانی دشمنوں کو بھی معاف کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ " انسان کے اخلاق ہمیشہ دورنگ میں ظاہر ہو سکتے ہیں یا ابتلا کی حالت میں اور یا انعام کی حالت میں۔اگر ایک ہی پہلو ہو اور دوسرا نہ ہو تو پھر اخلاق کا پتا نہیں مل سکتا۔چونکہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق مکمل کرنے تھے اس لئے کچھ حصہ آپ کی زندگی کا مکی ہے اور کچھ مدنی۔مکہ کے دشمنوں کی بڑی بڑی ایذارسانی پر صبر کا نمونہ دکھایا اور باوجود ان لوگوں کے کمال سختی سے پیش آنے کے پھر بھی آپ ان سے حلم اور بردباری سے پیش آتے رہے اور جو پیغام خدا تعالیٰ کی طرف سے لائے تھے اس کی تبلیغ میں کو تاہی نہ کی۔پھر مدینہ میں جب آپ کو عروج حاصل ہوا اور وہی دشمن گرفتار ہو کر پیش ہوئے تو ان میں سے اکثروں کو معاف کر دیا۔باوجو د قوت انتقام پانے کے پھر انتقام نہ لیا۔" (ملفوظات جلد 6 صفحہ 195-196) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا مزید ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : ان باتوں کو نہایت توجہ سے سننا چاہئے۔اکثر آدمیوں کو میں نے دیکھا اور غور سے مطالعہ کیا ہے کہ بعض سخاوت تو کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی غصہ ور اور زُود رنج ہیں۔بڑے سخی ہیں لوگوں کو دیتے بھی ہیں لیکن ساتھ غصہ بھی آجاتا ہے اور ذرا ذراسی بات پر ناراضگی بھی آجاتی ہے۔کسی کو دیا تو اس کے بعد پھر احسان بھی جتادیا۔ناراضگی ہوئی تو۔فرمایا کہ بعض حلیم تو ہیں لیکن بخیل ہیں۔بعض غضب اور طیش کی حالت میں ڈنڈے مار مار کر گھائل کر دیتے ہیں مگر تواضع اور انکسار نام کو نہیں۔بعض کو دیکھا ہے کہ تواضع اور انکسار تو ان میں پرلے درجہ کا ہے مگر شجاعت نہیں ہے۔۔۔عاجزی ہے ، انکساری ہے لیکن بہادری نہیں۔ذراسی کوئی بات موقع آئے تو فور أبز دلی دکھانے لگ جاتے ہیں۔فرمایا کہ ہر انسان جامع صفات بھی نہیں ہوتا۔یہ ٹھیک ہے۔لیکن ساتھ یہ بھی ہے کہ بالکل محروم بھی نہیں